جدید علم کلام کے عالمی اثرات

by Other Authors

Page 8 of 156

جدید علم کلام کے عالمی اثرات — Page 8

تحقیق تفحص کے نئے دروازے کھول دیئے۔پاکستان کے ایک فاضل اور محقق جناب ڈاکٹر نشا را حمد صاحب کے قلم سے اس کی مزید تفصیل ملاحظہ ہو۔فرماتے ہیں :۔دور (۱۹۰۰ تا ۱۹۲۵) تحریک استشراق کے عروج و کمال سے عبارت ہے۔اس عہد میں تحریک استشراق کو بھر پور فروغ حاصل ہوا مستشرقین کے انداز و اطوار اگرچہ بدل گئے تاہم کیفیت و کمیت دونوں اعتبار سے اُن کے اختلاف اپنے اسلام پر بازی لے گئے۔چنانچہ : (1) کمیت کا اندازہ تو اس بات سے کیا جا سکتا ہے کہ زیرِ بحث دور میں مستشرقین کی ایک بہت بڑی تعداد سامنے آئی۔اس میں ہر قسم کے مستشرقین شامل تھے جو خا موش صلیبی جنگ کے اس محاذ پر یورپ کے تقریباً تمام علاقوں کی نمائندگی کرنے والے تھے مثلا فرانس اٹلی، انگلستان، اسپین ، پرتگال، آسٹریا ، ہالینڈ، برمنی ، ڈنمارک، سوئیڈن سوئٹزر لینڈ، ہنگری، روس، انجیم، چیکوسلواکیہ، فن لینڈ وغیرہ اور را مریکہ والے بھی شریک ہو گئے۔(ب) کیفیت کے اعتبار سے مستشرقین نے تصنیف و تالیف کے ڈھیر لگا دیئے۔ان کے مطالعہ اور تحقیق و تدقیق کا دائرہ بھی محدود نہ رہا بلکہ عقائد اسلام، قرآن، حدیث ، سنت، فقه، اجتهاد عرب اور اہل عرب اور احوال ،عرب، ترکوں عریوں کے تعلقات، اسلام کی اصلیت اسلامی تہذیب و تمتران اور پیغمبر اسلام کی سیرت و سوانح وغیرہ پر کثرت سے لکھا گیا۔اس دور میں مستشرقین کا معیار تحقیقی