جدید علم کلام کے عالمی اثرات — Page 7
ترکی، ایران اور برصغیر پاک و ہند میں تفسیر، حدیث، اسلامی قانون، کلام، تاریخ اسلام اور سیرت النبی کے موضوعات پر شائع ہونے والا وسیع لڑیچر اس پر شاہد ناطق ہے۔پاکستان کے نامور مفکر ڈاکٹر خلیفہ عبدالحکیم ایم اے پی ایچ ڈی ڈی لٹ ڈائریکٹر ادارہ ثقافتِ اسلامیہ پاکستان تحریر فرماتے ہیں :- یہ بیسویں صدی عیسوی ہر جگہ مسلمانوں کے لیے نشاہ ثانیہ کہئے یا بیداری کا آغاز ہے مسلمان انڈونیشیا سے لے کر مرا کو تک اور افریقہ کے تاریک گوشوں میں بھی سیاسی اور علمی جد و جہد کر رہے ہیں " پندرہ روزہ استقلال لاہور ریکم مارچ ۱۹۵۸ء صلا) امام الزمان کے غیر شعوری اثرات کی نمایاں جھلک ہمیں یورپ و امریکہ کی مادی دنیا میں بھی دکھلائی دیتی ہے اور یہ عجیب اور پراسرار بات ہے کہ تمام مشہور عالم موجد حضرت اقدس مسیح موعود کے عہد میں ہوئے اور آپ کی بعثت کی صدی ایجادات کی صدی ثابت ہوئی جسکے مجھے یقینا تصرف الہی کا ہاتھ کار فرما ہے۔یہی وہ زمانہ ہے جس میں مستشرقین نے اسلامی لٹریچر کی اشاعت میں حیرت انگیر کام کیا جس کا ایک شاندار نمونه جامعه هر بید لیدن کے پروفیسر الدکتور ا ہی۔ونسک کی کلید احادیث نبوئی " المعجم المفهرس ہے جو سات ضخیم جلدوں میں ہے۔اس دور میں قریباً پچاس سے زیادہ مستشرقین نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت پر کتابیں لکھیں۔(رسالہ" نقوش" لاہور۔رسول نمبر جلد صفحه ۵۵۱ تا ۶۰ ۵) علاوه انہیں انہوں نے عربی کی قلمی کتابوں کے کیٹیلاگ مرتب کیے ، قرآن مجید کے تراجم کیئے اور ڈکشنری آف اسلام اور انسائیکلو پیڈیا آف اسلام کی تدوین کر کے