جدید علم کلام کے عالمی اثرات — Page 57
(۵) رائے بہادر بھوانیداس صاحب افسر بند و بست ضلع جہلم۔حکیم مولوی نورالدین صاحب سابق طبیب شاہی صا راجہ صاحب بها در والی کشمیر اور یہی مولوی صاحب تھے جو اخت مر جلسہ پر خاتمہ کی تقریر کرنے کے لیے مقرر کیے گئے تھے " -۲- اخبار چودھویں صدی راولپنڈی نے یکم فروری ۱۸۹۷ء کے شمارہ میں جلسہ اعظم مذاہب پر تبصرہ کرتے ہوئے لکھا " ان لیکچروں میں سب سے شدہ اور بہترین لیکچر ؟ جلسہ کی روح رواں تھا مرزا غلام احمد صاحب قادیانی کا لیکچر تھا جس کو مشہور فصیح البیان مولوی عبد الکریم صاحب سیالکوٹی نے نهایت خوبی و خوش اسلوبی سے پڑھا۔لیکچر دو دن میں تمام ہوا۔میں رد کمر کو قریباً ہم گھنٹے اور ۲۹ کو 1 گھنٹہ تک ہوتا رہا کل چھ دسمبر کم گھنٹڈ میں یہ لیکچر تمام ہوا جو حجم میں سونہ نخہ کلاں تک ہوگا۔فرانسکو مولوی عبد الکریم صاحب نے یہ لیکچر شروع کیا اور کب شروع کی کہ کہ تمام سامعین لٹو ہو گئے۔فقرہ فقرہ پر صدائے آفرین و تحسین بلند تھی اور بسا اوقات ایک ایک فقرہ کو دوبارہ پڑھنے کے لیے حاضرین سے فرمائش کی جاتی تھی۔عمر بھر بہار سے کانوں نے ایسا خوش آئیند لیکچر نہیں سنا۔دیگر مذاہب میں سے جتنے لوگوں نے لیکچر دیئے سچ تو یہ ہے کہ جلسہ کے مستفسرہ سوالوں کے جواب بھی نہیں تھے۔عموماً سپیکر صرف چوتھے سوال پر ہی رہے اور باقی سوالوں کو اُنہوں نے بہت ہی گم میں کیا۔اور زیادہ تر اصحاب تو ایسے بھی تھے جو بولتے تو بہت تھے مگر اس میں جاندار