جدید علم کلام کے عالمی اثرات — Page 32
۳۲ آل محمد میں ہے۔کعبہ کے راستہ میں دیوار حائل کر دی جائے گی۔مومن اقلیت میں ہوں گے اور اپنی بکری سے بھی زیادہ ذلیل و رسوا کیئے جائیں گے۔اور گو علماء وقت سب سے بڑھ کہ مہدی کے مخالف ہوں گے مگر بالآخر مشرق و مغرب ماری موجود کی منادی سے گونج اُٹھیں گے۔" اس نوع کی بکثرت علامات اس کتاب کے دوابواب العلم والفقهاء والامراء“ اور ” الدين والقرآن میں بیان کی گئی ہیں۔ظور صدی کا آفاقی نشان رمضان میں چاند سورج گھر ہن ہے جس کا ذکر حدیث کی بلند پایہ کتاب دار قطنی میں موجود ہے۔از ہر یونیورسٹی کے ایک نابغہ روزگار علامہ سید محمد حسن نے اپنی کتاب " المهدیه فی الاسلام کے صفحہ ۲۷ پر تسلیم کیا ہے کہ چاند سورج گرہن کا یہ آسمانی نشان اگر کسی مدعی مہدویت کے زمانہ میں مارا ہوا تو وہ باقی سلسلہ احمدیہ ہیں۔رکات حضرت بانی سلسلہ احمدیہ کی آمد سے قبل مسلم دنیا میں خونی مہدی کے ظہر کا تصور عرب و عجم میں راسخ ہو چکا تھا۔ہر طرف مہندی کی تلوار سے کفار کے قتل عام کے غلغلے بلند ہو رہے تھے۔اس بھیانک تصور نے شمنان اسلام کی نظر میں اسلام کو بہت بدنام کیا۔حضرت بانی سلسلہ احمدیہ سے اس تصور کے خلاف نہر سورت باد کیا۔چودھویں صدی ہجری کے آخر میں خدا تعالیٰ نے اس دیو مالائی افسانہ اور خیال کو پاش پاش کرنے کا عجیب سامان پیدا فرمایا اور وہ یہ کہ عین حج کے مقدس و مبارک ایام کے دوران ایک شخص محمد بن عبدالله القحطانی نے جس کی والدہ کا نام آمنہ تھا حرم کعبہ میں دعوئی مہدویت کیا اور اس نے دوسرے فسادیوں سے مل کرسٹین گنوں سے خانہ کعبہ پر قبضہ کر لیا۔کئی دن کے خونریر تصادم کے بعد ارض حرم کو اس فتنہ سے پاک کیا جا سکا۔