جدید علم کلام کے عالمی اثرات — Page 33
۳۳ اس حادثہ معظمی نے عر کے دانشور علماء و فضلاء کی آنکھیں کھول دیں چنانچہ ایک مشہور عالم دین اشیخ محمد علی الصالونی نے "المهدي واشراط الساعة" کتاب شائع کی نہیں ہیں صاف طور پر اقرار کیا کہ مہندی دینی مصلح ہوگا جو اللہ عز وجل کی طرف سے براہین و دلائل لے کر آئے گا اور وہ بند و قول اور مشین گنوں سے مسلح نہ ہوگا۔اور ہتھیار بند ہو کر دعوی کرنے والا شخص مہدی نہیں درقبال ہے۔نہ صرف مشق اور بیروت میں بلکہ سارے عرب ممالک میں اس کتاب کی وسیع پیمانے " " پر اشاعت کی گئی۔حضرت بانی سلسلہ احمدیہ نے نہایت شد و مد کے ساتھ یہ اعلان فرمایا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پر مہاد کے نام سے جارحانہ اقدامات کا الزام سراسر جھوٹ اور بہتان ہے۔اسلام صرف دفاع کے لیے تلوار اٹھانے کی اجازت دیتا ہے اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی تمام جنگیں دفاعی نوعیت کی تھیں۔عرب علماء کی طرف سے اس مسلک کی تائید میں عرصہ سے آواز بلند کی جاری ہے۔چنانچہ علامہ سید محمد رشید رضا مدير المنار نے الوحي المحمدی میں لنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے جہاد بالسیف کو جارحانہ نہیں مدافعانہ قرار دیا ہے۔برطانیہ میں عرب ملکوں کی سرپرستی میں دمی مسلم سکولز ٹرسٹ لنڈن قائم ہے۔جس کے چیرمین شیخ عبد اللہ علی المود ( شارجہ) ہیں۔ٹرسٹ نے پندرھویں صدی ہجری کے آغاز میں انسائیکلو پیڈیا آف سیرت ENCYCLOPAEDIA) OF SEERAH کی چار جلدیں شائع کی ہیں اور اس کا پیش لفظ سعودی عرب کی شاہ فیصل یونیورسٹی جدہ کے صدر ڈاکٹر عبدالله النصیف نے رقم فرمایا ہے کتاب کی پہلی جلد کے صفحہ ۵۰۳۴ پر اسلامی جہاد کے پس منظر پر روشنی ڈالی گئی ہے۔چنانچہ لکھا ہے :-