جدید علم کلام کے عالمی اثرات

by Other Authors

Page 18 of 156

جدید علم کلام کے عالمی اثرات — Page 18

کیا جائے" (صدق جدید ۲۲؍ دسمبر ۶۱۹۶۱ ) علامہ شبلی نعمانی نے شغل تکفیر کے خوگر اور دلدادہ نذر میں راہ نماؤں کا کیا خوب نقشہ کھینچا تھا۔فرماتے ہیں ہے اک رومی ساخت کہا میں نے کہ کیا آپ کچھ حالت پور رستے خروار نہیں ہیں آمادہ اسلام ہیں لندن میں ہزاروں پر چیندا بھی مائیل اظب رنہیں ہیں جو نام سے اسلام کے ہوجاتے ہیں پر ہم ان میں بھی تعیہ کے وہ آثار نہیں میں افسوس مگر یہ ہے کہ واعظ نہیں پیدا ہاں میں تو بقول آپ کے دیدار نہیں میں کیا آپکے زمرہ میں کسی کو نہیں یہ درد کیا آپ بھی اُس کے لئے تیار نہیں ہیں جھلا کے کہا یہ کہ یہ کیا سودا د ہے کہتے ہو وہ باتیں جو سزاوار نہیں ہیں کرتے ہیں مسلمانوں کی کفر شب روز بیٹھے ہوئے کچھ تم بھی تو بیکا نہیں ہیں محمود نظم شبلی اردو صفحه ۰۳۲ ۳۵ مرتبه سید ظهور امر صاحب موسوی تاجر کتب دہلی۔چھتہ لال میاں) سیح حضرت بانی سلسله احمدیه بین موعود و مہدی مسعود کے جدید علم کلام میں کلمہ طیبہ لا إله إلا الله محمد رسول اللہ کو ایک کلیدی حیثیت حاصل ہے جیسا کہ آپ خود تحریر فرماتے ہیں :۔یہ عاجز تو محض اس غرض سے بھیجا گیا ہے کہ ا یہ پیغام خلق شد کو پہنچا دے کہ دنیا کے تمام مذاہب موجودہ میں سے وہ مذہب تحق پر اور خدا تعالیٰ کی مرضی کے موافق ہے جو قرآن لایا ہے اور دار النجات میں داخل ہونے کے لیے دروازہ لا الہ الا الله محمد رسول اللہ ہے" (حجۃ الاسلام صفحه ۱۲-۱۳ اشاعت در مئی ۱۸۹۳ء مطبوعه ریاض بند پریس امر شیر)