جدید علم کلام کے عالمی اثرات — Page 151
۱۵۱ سب اُن کی جماعت میں داخل ہو چکے ہوں گے۔میں نے کہا کہ مجھے واقفیت نہیں ہے۔اُس نے حیرانی ظاہر کی اور کہا کہ جس ملک میں اسلام کا علمبر اور ظاہر ہو اس ملک کا آدمی اگر اسلامی تعلیم سے واقفیت نہ رکھے تو تعجب ہے میں نے کہا کہ تمہیں اُن کی نسبت کہاں سے علم ہوا ؟ کہنے لگا کہ میں داغستان کا رہنے والا قف کاری ہوں۔ہم لوگ یورپ میں تعلیم پاتے ہیں اور تجارت کرتے ہیں۔امریکہ کا ایک انگریزی زبان کا رسالہ ملا تھا۔میرا ایک انگریز دوست تھا اس کے پاس یہ رسالہ تھا۔اس کو یکی نے روسی اور ترکی زبان میں ترجمہ کیا تھا جس کو میں بوجہ جنگ کے شائع نہ کر سکا۔علاوہ ازیں ہمارے چند تا بر بخارا سے آئے اور انہوں نے مرزا احمد کی تعلیم ثنائی۔اب ہم اپنے ملک میں تعلیم حاصل کر کے نیز ان کی فکر میں تھے کہ نا مراد جنگ شروع ہو گئی۔اس کے بعد ہم تبریز پہنچے اور قونص جنرل سے ملے۔اس کے بعد اس نے کہا کہ مظفر بے سے بھی ملتے جاؤ۔وہ میرا ماتحت ہے۔اُس کے پاس جب گئے تو وہ خاطر تواضع سے پیش آیا اور اندر لے گیا۔سٹرارگردستان کی گفتگو حضرت مرزا صاحب کے متعلق اندر ایک شخص بہت ہی حسین اور جوان بیٹھا تھا۔میں اُسے دیکھ کر ششدر رہ گیا۔ایسا خوبصورت آدمی یکں نے کبھی نہ دیکھا تھا۔اُس نے فارسی میں ہماری مزاج پرسی کی۔اُن کا نام حضرت سیلاط پاشا تھا اور وہ تمام کردستان کے سردار مانے جاتے تھے۔سلاط نے فراشی کو کہا سب باہر لے جاویں۔صرف کیں، حمید گل صاحب جو میرے ہمراہ تھے اسیلاط اور منظفر بے رہ گئے۔بات چیت شروع ہوئی۔افغانستان کی نسبت انہوں نے