جدید علم کلام کے عالمی اثرات

by Other Authors

Page 149 of 156

جدید علم کلام کے عالمی اثرات — Page 149

۱۴۹ لائیجان، ارومیہ۔اس کے بعد کوہ قاف جنوبی دروں کو عبور کر کے اخر می داغ مشہور پہاڑ تک پہنچے۔اس اثناء میں مجھے شہر بایزید جانے کا موقعہ ملا۔اس دوران میں جب کبھی کسی قسم کی دینی گفت گو ر ہوں، ایرانیوں یا ترکوں سے ہوئی تو احمدی جماعت کا اکثر ذکر آتا رہا۔اور لوگ مجھ سے دریافت کرتے رہے۔لیکن اس وقت تک بھی یکن احمدی جماعت کے اصولوں سے اچھی طرح واقف نہ تھا اس لیے ان لوگوں کو منفصل حالات احمدی جماعت کے نہیں بتلا سکا۔بایزید شہر میں جب میں پہنچا تو میرے ترک آفیسر سب فوجی کاروبار میں مصروف تھے اس لئے ایرانی کونسل میں مقیم ہوا۔ترک دن رات لڑائی کا سامان تقسیم کرنے میں مشغول تھے اور جنگ میں شامل ہونے والے تھے۔کونسل کی جگہ پر پہلے مجھے شہر کا قائم مقام آکر ملا۔شخص فارسی بول سکتا تھا مجھ سے لڑائی کی گفت گو کرتا رہا اور پھر اس نے ہندتون کے مسلمانوں کی حالت دریافت کی کہ ہندوستانی ترکوں کی طرف ہوں گے یا انگریزوں کی طرف۔میں نے کہا کہ ہندوستان سے ایسی امید نہ رکھو کہ وہ انگریزوں کے خلاف ہو کر لڑیں گئے۔اس کے بعد قاضی شہر سے ملاقات ہوئی۔میں نے اس سے کہا کہ قاضی صاحب آپ سنی حنفی ہیں پھر آپ لہوں کے بال کیوں نہیں کرواتے ؟ وہ ہنسا اور کہنے لگا کہ اہل افغانستان اسلام کے پابند معلوم ہوتے ہیں۔پھر مذہبی گفتگو شروع ہوئی اور ہندوستان کی مذہبی حالت اس نے دریافت کی۔اس کے بعد اس نے حضرت مرزا احمد رحمۃ اللہ علیہ کے دعوے کی نسبت دریافت کیا۔میں نے لاعلمی ظاہر کی۔پھر اس نے دریافت کیا کہ اس کے پیر و شریعت کے پابند ہیں یا نہیں ؟ اور نماز کیسی ہے۔میں نے کہا کہ وہ شریعت کے پابند ہیں۔ہماری طرح ہی نماز پڑھتے ہیں صرف ہاتھ ناف پر انہیں باندھتے۔اُس نے کہا کہ تم لوگ کیوں ان کو کافر کہتے ہو ؟ میں نے کہا صرف جاہلی ملانے ایسا کہتے ہیں۔