جدید علم کلام کے عالمی اثرات — Page 134
۱۳۴ خوفناک مصائب و آلام سے دو چار ہونے کے بعد اب وہ صلح اور استاد کی شاہراہ پر گامزن ہونے کی طرف مائل ہوتی دکھائی دیتی ہے۔اور یہ گیر اصرار ہات ہے کہ احمدیت کی دوسری صدی کے آغانہ کے ساتھ ہی اقوام عالم میں انقلابات کا سلسلہ شروع ہو چکا ہے اور بولن کی آہنی دیوار کے ریزہ ریزہ ہونے کے بعد دنیا بھر میں تہلکہ پے گیا ہے اور نہ صرف مشرقی اور مغربی جرمنی بلکہ پورے یورپ کے متحد ہونے کی راہیں کھل گئی ہیں اور کمیونزم جس کا سارا فلسفہ شدہ دا دہشت اور بربریت پر قائم تھا حالات حاضرہ کے سامنے گھٹنے ٹیک رہا ہے جیسا کہ حضرت مصلح موعود نے فروری ۱۹۴۵ ء کو لاہور میں ایک معرکہ آرا لیکچر کے دوران فرما تھا " اس وقت کمیونزم کی کامیابی محض زار کے مظالم کی وجہ سے ہے۔جب پچاس ساٹھ سال کا عرصہ گزر گیا ، جب زار کے ظلموں کی یاد دلوں سے مٹ گئی تب ہم کھیں گے کہ کیمونزم واقعہ میں ماں کی محبت اور باپ کے پیارا اور بہن کی ہمدردی کو کچلنے میں کامیاب ہو گیا ہے لیکن دنیا یا در تھے یہ محبتیں کبھی کھلی نہیں جاسکتیں۔۔۔۔۔وقت آئے گا کہ انسان اس مشینری کو توڑ پھوڑ کر رکھ دے گا اور اس نظام کو اپنے لیے قائم کرے گا جس میں عائلی جذبات کو اپنی پوری شان کے ساتھ برقرار رکھا جائے گا۔اقتصادی نظام صفحه ۵ ۸۰ طبع اقول - اگست ۶۱۹۴۵ قادیان) پھر روس کے آہنی پردہ اور اس میں داخلے کی ناروا پابندیوں کی طرف اشارہ کرتے ہوئے دو ٹوک لفظوں میں یہ آسمانی نیروی :۔آخر یہ کولڈ سٹور کی رکھنے کا معاملہ کب تک چلے گا۔ایک دن