جدید علم کلام کے عالمی اثرات — Page 133
١٣٣ اخلاق بایں تو ہمیں مناسب ہے کہ ہم بھی انہیں اخلاق کی پیروی کرین۔۔۔بد را قم آپ کو صلح کے لئے بلاتا ہے۔دنیا پر طرح طرح کے ابتلاء نازل ہو رہے ہیں۔زلزلے آرہے ہیں۔فحط پڑ رہا ہے اور طاعون نے بھی ابھی پیچھا نہیں چھوڑا اور توکچھ خدا نے مجھے خبر دی ہے وہ بھی یہی ہے کہ اگر دنیا اپنی باڈلی سے باز نہیں آئے گی اور بُرے کاموں ایسے تو یہ نہیں کرے گی تو دنیا رسخت سخت بلائیں آئیں گی اور ایک بلا ابھی بس نہیں کرے گی کہ دوسری بلا ظا ہر ہو جائے گی یاد قبل ازیں آپ نے حقیقت الوحی صفر ۲۵۰ ۱۵۰ میں اقوام عالم کو زبردست اندار کرتے ہوئے فرمایا :۔اسے یورپ تو کبھی امن میں نہیں اور اسے ایشیا تو بھی محفوظ نہیں۔اور اسے جزائر کے رہنے والو کوئی مصنوعی خدا تمہاری مدد نہیں کرے گا۔لیکن شہروں کو گرتے دیکھتا ہوں اور آبادیوں کو ویران پاتا ہوں۔وہ واحد یگانہ ایک مدت تک خاموش رہا اور اس کی آنکھوں کے سامنے مکروہ کام کیئے گئے اور وہ چُپ رہا مگر اب وہ ہیبت کے ساتھ اپنا چہرہ دکھلائے گا۔جس کے کان سننے کے ہوں سنے کہ وہ وقت دور نہیں میں نے کوشش کی کہ خدا کی امان کے نیچے سب کو جمع کروں پر ضرور تھا کہ تقدیر کے نوشتے پورے ہوتے " افسوس صد افسوس ! دنیا نے صلح کے شہزادہ کی آواز کو ٹھکرا دیا جس کا نمیازہ وہ اسی سال سے بھگت رہی ہے۔تاہم دو ہولناک جنگوں کے تلخ نتائج اور