جدید علم کلام کے عالمی اثرات — Page 101
1- پر نہایت شرمناک حملے کر رہے تھے۔اُن کے ناپاک اور بے بنیا داعتراضات، الزامات اور مفتریات کا تصور آج بھی ایک عاشق رسول کی روح کو لرزا دیتا ہے اور اس کا خون کھولنے لگتا ہے۔اور یہ حقیقت ہے کہ شیطان دورانی قاتم رسول سلمان رشد می کی بکواس اور بلد نام زمانہ یوسف صدیق ٹیونسی کے کارٹون ان منفورت کے مقابل اتنی بھی حیثیت نہیں رکھتے ملنی چند ریزوں کے سامنے ایک فلک بوس پہاڑ کی ہوتی ہے۔اں ہور میں عیسائیت کے علمبرداروں کے حوصلے اس درجہ بڑھ چکے تھے کہ وہ مکہ اور مدینہ کی مقدس سرزمین پر صلیبی جھنڈا لہرانے کا خواب دیکھ رہے تھے۔چنانچہ انہی ایام میں امریکہ کے مشہور عیسائی لیکچرار پادری جان ہنری بیروز نے ہندوستان کا طوفانی دورہ کیا اور عیسائیت کے عالمی اثرات کے موضوع پر لیکچر دیتے ہوئے اعلان کیا :- I might sketch movement in Mussulman lands, which has touch- ed۔with the radiance of the Cross the Lebanon and the Persian mountains, as well as the waters of the Basphorus, and which is the sure harbinger of the day when Cairo and Damascus and Tcheran shall be the servent of Jesus and when even the solitudes of Arabia shall be pierced, and Christ, in the person of His disciples, shall enter the Kaaba of Mecca and the whole truth shall at last be there spoken۔"This is eternal life that they might know Thee, the only true God, and Jesus Christ whom thou hast sent۔" (Barrow's Lectures 1896-97, Christianity, The World Wide Reli- gion, by John Henry Barrows, page 42)۔اہ تفصیل کے لیے ملاحظہ ہو رسالہ نقوش رسولی نمبر ( لاہور) جلد یاز دہم شمارہ جنوری ۶۱۹۸۵ صفحه ۵۳۱-۵۴۰ -