جدید علم کلام کے عالمی اثرات — Page 100
1۔۔نفس سے ہوتا ہے۔یہ رسول (بنی اسرائیل کے انبیاء کی طرح جو بنی اسرائیل میں تو رات کے رسول تھے) اسم میں اسلام کے رسول ہیں۔علامہ صاحب غازی مصطفی کمال اتاترک کا ذکر کرتے ہوئے لکھتے ہیں :- نَصَرَهُ اللهُ نَصْرًا عَزِيزًا إِذْ تَوَفَّاهُ وَرَفَعَهُ اليه " (صفحه ۳) یعنی انا تعالیٰ نے اُن کی نمایاں رنگ میں نصرت فرمائی جب اُن کو وفات دی اور اپنی طرف اُٹھا لیا۔آپ نے اس فقرہ میں توقی" اور دفع کے الفاظ ٹھیک انہی معانی میں استعمال فرماتے ہیں جو احمدی علم کلام سے مخصوص ہیں۔علامہ عبید اللہ سندھی نے اس کتاب پر بہت خوشنودی کا اظہار فرمایا اور مولانا عبیدالحق پیشاوری نے آپ کو الامام العلام تاج ان علام کے خطاب سے یاد کرتے ہوئے لکھا کہ یہ کتاب آب زر سے لکھے جانے کے قابل ہے۔جماعت احمدیہ کا قیام ۲۳ مارچ ۱۸۸۹ء کوشل یورپ و امریکہ میں آیا جبکہ صرف چالیس درویش طبی اور فقر منش بزرگوں نے حضرت مسیح موعود کے دست مبارک پر بیعت کی۔یہ ایک تاریخ ساز واقعہ تھا مگر مادی نگاہوں نے اس کو کوئی چنداں اہمیت نہ دی تھی کہ پنجاب کے پریس نے اس کی دو سطری نہر دنیا بھی گوارا نہ کی۔اُس زمانہ میں برطانوی امپریلزم کے جھنڈے ہر طرف لہرا رہے تھے اور مستشرقین اور عیسائی پادری اور متاد یورپ اور امریکہ کی پشت پناہی میں معصوموں کے سردار اور رسولوں کے فخر حضرت محمد مصطفی احمد مجتبی صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات مقدس