جدید علم کلام کے عالمی اثرات

by Other Authors

Page 99 of 156

جدید علم کلام کے عالمی اثرات — Page 99

۹۹ ٹالسٹائی کی طرح علامہ موسی جار اللہ بھی روس کے ایک تنظیم مفکر تھے اور بقول قاضی محمد عبد الغفار" روسی سلمانوں میں موسی جار اللہ کا وہی یا یہ تھا جو مصر میں مفتی عبدہ کا تھا یا آثار جمال الدین افغانی صفحه ۳۱۹ - ناشر انجمن ترقی اردو ہند دہلی ۱۶۱۹۴۰ علامہ موصوف حضرت مسیح موعود علیہ اسلام کے جدید علم کلام سے اس درجہ متاثر تھے کہ انہوں نے خاص اس موضوع پر کتاب لکھی کہ قرآن مجید میں کوئی آیت منسوخ نہیں۔(رسالہ ترجمان القرآن جنوری فروری ۶۱۹۴۵ صفحه ۷۹) علامه كتاب في حروف اوائل السور" صفحه ۱۳۳ پر آیت وَآخَرِينَ منهم (الجمعه : (۴) کی تفسیر میں فرماتے ہیں :۔هُوَ الذي بَعَثَ فِي الْأُمِّيِّينَ رَسُولًا مِنَ الْأُمِّيِّينَ وبعت في أخَرِينَ رُسُلاً مَنْ أَخَرِيْنَ لِكُلّ أم لَهَا رَسُولُ مِنْ نَفْسِهَا وَهُؤلاء الرُّسُلُ هُمُـ رُسُلُ الإِسْلَامِ فِي الْأُمَمِ مِثْلَ أَنْبِيَاءِ بَنِي إسرائيل هُمْ رُسُلُ التَّوْرَاةِ فِي بَنِي إِسْرَاريل " دمی کا انا شہر لاہور بیت الحکمت ۱۷ فروری ۶۱۹۴۲ ) یعنی وہی خدا ہے جس نے امتیوں کی طرف اُمتیوں میں سے ایک رسول بھیجا اُسی خدا نے آخرین میں بھی رسول بھیجے جو آخرین میں سے ہیں کیونکہ ہر امت کے لیے رسول اس کے نے تفصیلی حالات کے لیے ملاحظہ ہو معجم المؤلف این جلد ۱۳ ص ۳۶- از عمر رضا كحالة مطبع ترقی دمشق ۱۹۶۱ء)