جدید علم کلام کے عالمی اثرات — Page 43
۴۳ (ترجمه) فرقہ ناجیہ کی علامت ا۔فرقہ ناجیہ دوسر کے لوگوں کی نسبت اقلیت میں ہوگا۔رسول خدا صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے اس ارشاد مبارک میں اسی کے لیے یہ دعا کی ہے کہ غرباء کے لیے مبار کی ہو۔یہ صالح لوگ ہوں گے جو بدایوں کے ہجوم میں گھرے ہوئے لوگوں کے درمیان ہوں گے۔ان کی پیروی کرنے والے کم اور ان سے تعصب رکھنے والے بہت زیادہ ہوں گے۔کم (یہ امام احمد بن حنبل کی صحیح روایت ہے۔) قرآن کریم نے بھی ان کی خبر دی ہے اور ان کی تعریف میں فرمایا ہے کہ میرے بندوں میں سے بہت کم شکر گزار ہوتے ہیں (سورۃ سبا : ۱۴)۔لوگوں کی بھاری اکثریت فرقہ ناجیہ سے عداوت رکھتی ہے ، ان کے خلاف افترا پردازی سے کام لیتی ہے اور انہیں برے ناموں سے یاد کرتی ہے۔اس کے لیے انبیاء کا وجود مشعل راہ ہے جن کے بارے میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ ہم نے انسانوں اور بھنوں میں سے سرکشوں کو اسی طرح ہر نبی کا دشمن بنا دیا تھا ان میں سے بعض بعض کو دھوکہ دینے کے لیے (ان کے دل میں ) بُرے خیال ڈالتے ہیں جو محض مطمع کی بات ہوتی ہے۔(الانعام : ۱۱۳) یہ حضرت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہنی کی ذات گرامی تھی جس نے توحید کی طرف بلایا تو آپ کی قوم نے آپ کو ساحر و کذاب قرار دے دیا حالانکہ اس سے پہلے وہ آپ کو العصا دق الامین کے نام سے یاد کرتی تھی۔حضرت بانی سلسلہ احمدیہ نے واضح اور فیصلہ کن رنگ میں یہ صراحت فرمائی کہ:-