جدید علم کلام کے عالمی اثرات

by Other Authors

Page 35 of 156

جدید علم کلام کے عالمی اثرات — Page 35

۳۵ تیرہ سال تک مظالم برداشت کیئے یہاں تک کہ انہیں اپنی جائداد اپنے مکان اپنے رشتہ دار اور سب سے بڑھ کر خانہ کعبہ کو چھوڑتے ہوئے ایک اور شہر مدینہ میں پناہ لینا پڑی محض اس لیے کہ وہ اپنے عقیدہ کا تحفظ کر سکیں اور اس پر آزادی سے عمل پیرا ہو سکیں لیکن قریش نے انہیں مدینہ میں بھی ی موقع نہیں دیا کہ وہ آزادی سے وہاں رہ سکیں اور اپنے مذہب پر عمل کر سکیں۔چنانچہ انہوں نے اُنہیں اور اسلام کو ختم کر دینے کے لیے متواترہ چڑھائیوں اور جملوں کا سلسلہ شروع کر دیا۔اس طرح اسلام میں اپنے دفاع اور اپنی بقاء کے لیے جنگ کا تصور اسی صورت حال کے طبعی نتیجہ کے طور پریہ آیا۔جب قریش نے حضرت محمد مصطفے صلی اللہ علیہ وسلم) اور آئینہ کے صحابہ کو اپنے دین پر اپنے عقیدہ کے مطابق عمل کرنے سے روکا اور ان کے خلاف اعلان جنگ کر دیا تو آنحضرت (صلی اللہ علیہ وسلم ) کے پاس اس کے سوا اور کوئی چارٹ کاریہ رہا کہ وہ اپنی بھر پور قوت سے اپنے دین اور اپنی جان کی حفاظت کریں۔یہ تھے وہ حالات جن میں انہیں اجازت دی گئی کہ وہ اپنی اور اپنے دین کی حفاظت کی خاطر جوابی کارروائی کریں اور دشمن کے جارحانہ عزائم کا مقابلہ کرنے کے لیے صف بستہ ہو جائیں۔(ترجمہ) مندرجہ بالا تصریحات حضرت بانی سلسلہ احمدیہ کے نظریہ جہاد کی شاندا فتح کا اعلان عام کر رہی ہیں کیونکہ آپ نے قریباً ایک صدی پیشتر اسلامی جہاد کے آغاز کا بالکل یہی فلسفہ پیش فرمایا تھا۔چنانچہ آپ نے کتاب گورنمنٹ انگریزی اور جہاد میں لکھا ہے :۔" اب ہم اس سوال کا جواب لکھنا چاہتے ہیں کہ اسلام کو جہاد کی کیوں ضرورت پڑی اور جہاد کیا چیز ہے؟