جدید علم کلام کے عالمی اثرات — Page 156
104 سیلاط سے بھر ملاقات میں نے کہا کہ تم جلد ہی کیوں واپس آگئے کچھ اور نام تھا۔پہلے اور گفتگو مں آیا نام میں شریک ہوئے۔یہ قوم لخط آپ کے نام دیا اور فورا ہی پوسٹیکل آفیسر سے اجازت دلوا کر مجھے واپس روانہ کر دیا۔خط میں انہوں نے اشتیاق ملاقات کا اظہار کیا اور مجھے لکھا کہ میں اُن سے آکر ملوں، اسی ق وہ دو بند ایک جگہ ہے جہاں گیا اس منزل کے فاصلے پر تھے۔غیر میں گیا۔مزاج پرسی وغیرہ جب ختم ہوئی تو چھٹتے ہی کہنے لگے کہ میرے لیئے کیا لائے ہو ؟ میں نے کہا کہ نافہ لایا ہوں۔تو ہنسے اور کہنے لگے کہ حضرت احمد کی کوئی کتاب بھی لائے ہو یا نہیں ؟ میں نے عرض کیا کہ حضرت مجھے تو خواب و خیال بھی نہ تھا کہ آپ سے ملاقات ہوگی۔پھر کہنے لگے کہ جب ہندوستان رخصت ہو گئے تھے تواحمد کی جماعت کے مرکز میں بھی گئے تھے یا نہیں ؟ یکی خاموش ہو گیا۔اس کے بعد میں وہاں سے وا نہ ہو کر کوک سلیمانیہ ہوتا ہوا بغداد پنچا۔عربوں کی بغاوت ختم ہو چکی تھی۔اس کے بعد میری صحت خراب ہونے کی وجہ سے مجھے ہندوستان آنے کی اجازت ہوئی۔را چیپوتانہ میں احمدیت کا ذکر ۱۹۲۲ء اور ۱۹۲۳ء میں مجھے راجپوتانے میں کام کرنے کاحکم ملا اور ایسے علاقے میں گیا جہاں کوئی انگریز سرویرا بھی تک نہیں گیا اور نہ ہی امید تھی کہ کوئی جاسکے گا۔پہلے ہم لوگ بار میرا سٹیشن مارواڑ پر اترے۔وہاں سے جیسلمیر ریاست کے شہر پہنچے۔سب بندوبست کر کے ریگستان میں داخل ہوئے۔جگہ جگہ پانی کے جاہات پر لوگ ملتے رہے جو نام کے مسلمان تھے مگر اسلام سے نا واقف لیکن اکرنوں نے احمد می جما عت کی نسبت وہاں بھی مجھ سے دریافت کیا ہے۔