جدید علم کلام کے عالمی اثرات

by Other Authors

Page 141 of 156

جدید علم کلام کے عالمی اثرات — Page 141

IM ایران کا سفر "جب ۱۹۰۰ ء میں میں ایران گیا اور وہاں ۱۹۰۲ مر تک رہا۔بوشهر بندر عباس لنگر، میناب، میر، آرزو ، کرمان اشتملات، احمدی نیرو بر تو، شیراز، تبریز وغیره شہروں اور قصبوں میں میرا گزر ہوا۔اس سفر میں شیعہ مذہب کے علاوہ بانی مذہب والوں سے بھی ملا۔مگر یہ لوگ اپنے مذہب کو پوشیدہ رکھتے تھے بسنت والجماعات کے اصحاب سے بھی ملا مگر اس وقت احمدی جماعت کی نسبت میں نے کچھ نہ سنا اور نہ بھی مجھ سے کسی نے کچھ دریافت کیا اور نہ ہی نہیں جانتا تھا کہ احمدی بھی کوئی جھات ہے۔اب میں جانتا ہوں مگر میں احمدی نہیں ہوں۔مذہب باب کے متعلق بہت مبالغہ آمیز قصے سناتے رہے۔افسوس ہے بعد میں مجھے ایک بابی در ویش تونگر سے معلوم ہوا کہ یہ لوگ قرآن شریف کے منکر ہیں۔اگر یہ سچ ہے تو یہ لوگ کافر ہیں بلکہ خاص کافر ہیں۔ایران کے اہل تشیع بھی مسلمان ہیں۔مگر اسلام سے اتنے دور کہ جیسے دنیا کے بہت مسلمان اسلام کے اصولوں سے بالکل بے خبر - ابی سینیا کا سفر ۱۹۲ء میں میرا جانا ابی سینیا ملک حبش کو ہوا۔اس سفر میں شاہ ملینک کو دیکھا۔آدھ گھنٹے تک میں اُن کے تخت کے پاس کھڑا رہا۔اس وقت میں جوان تھا اور میں نے زریں سنگی صریہ باندھی ہوئی تھی۔کمر میں ریشمی صافہ تھا اور کرپ آویزاں تھی۔شاہ ملینک بار بار میری طرف دیکھتا تھا اور سرا گنتی سفیرانی سینیا سے میری بابت دریافت کرتا تھا کہ اس کا کیا نام ہے کیس ملک کا رہنے والا ہے۔اس وقت ملینک کی گود میں چھوٹا ساکتا تھا اور منکے کر تخت پر بیٹھا تھا۔