جدید علم کلام کے عالمی اثرات — Page 115
۱۱۵ حضرت مسیح موعود نے ۰۹۳ار میں پیش گوئی فرمائی تھی سے وَ وَ اللَّهِ يُثْنِي فِي الْبِلادِ إمَامُنَا اِمَامُ الآنَافِ الْمُصْطَفِى الْمُتَخَيَّرُ (کرامات الصادقين) اور اللہکی قسم ملکوں میں ہمارے امام کی تعریف کی جائے گی جو ساری دنیا کا امام ہے برگزیدہ اور چین ہوا۔چهارم - حضرت مسیح موعود نے عہد حاضر میں سوتے پہلے یہ نکتہ پیش فرمایا کہ مذہب ندا کا قولا ہے اور سائنس اس کا فعل اس لیے ان دونوں میں کوئی تضاد نہیں ہو سکتا۔مشہور برطانوی سیاح ، ہیئت دان اور لیکچرار مسٹر کلیمنٹ ریگ نے مئی ۱۹۰۸ء میں دو بار حضرت اقدس سے ملاقات کی اور گناہ، نجات ، روحوں سے طلاقات، ذات و صفات باری ، ڈارون کا نظریہ ارتقاء، تاثیر اجرام سماوی وغیرہ امور پر کئی سوالات کیے۔اس ملاقات میں حضرت مفتی محمد صادق صاحب بھی موجود تھے۔آپ کا بیان ہے کہ مٹر کلیمنٹ حضور کے تسلی بخش اور بصیرت افروز ہوا بات سے بہت خوش ہوئے اور کامل اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے عرض کیا کہ ہمیں تو خیال کرتا تھا کہ سائنس اور مذہب میں بڑا تضاد ہے بعیسا کہ عام طور سے علماء میں مانا گیا ہے مگر آپ نے تو اس تضاد کو بالکل اٹھا دیا ہے۔حضور نے فرمایا :- د مینی تو ہمارا کام ہے اور میں تو ہم ا ا ہت کر رہے ہیں کہ مذہب لہ بانی احمد نیشن امریکہ۔