اتمام الحجّة

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 4 of 82

اتمام الحجّة — Page 4

اتمام الحجة اردو تر جمه شروا أنفسهم ابتغاء مرضاة اُنہوں نے رب لطیف کی خوشنودی کے حصول کی الرب اللطیف، ورضوا خاطر اپنے آپ کو بیچ ڈالا۔اور اُس کی رضا کی لمرضاته بمفارقة المألف خاطر اپنے گھر بار اور پیارے دوستوں کی مفارقت والأليف، وأنحـوا أبصارهم پر راضی ہو گئے اُنہوں نے دنیا وَ مَا فِيهَا سے اپنی عن الدنيا وما فيها، وأخذتهم آنکھیں پھیر لیں۔اور ایک بہت بڑی کشش اُن جذبة عظمى فجذبوا إلى الله پر ایسی طاری ہوئی کہ وہ اللہ رب العالمین کی طرف ربّ العالمين۔کھنچے چلے گئے۔أما بعد فاعلم أن أُخُوّة اَمَّا بَعد۔تو جان لے کہ اسلامی اخوت خیر خواہی الإسلام يقتضى النصح و صدق اور صدق بیانی کا تقاضا کرتی ہے۔اور جس شخص کو الكلام، ومن أعطى علمًا من كوئى علم دیا گیا پھر اس نے اُسے ایک پوشیدہ راز کی علوم فأخفاه كسر مكتوم فهو طرح چھپایا تو وہ ایک خائن شخص ہے۔علوم کے أحد من الخائنين۔وإن العلوم دقائق کی کوئی انتہاء نہیں اور اُن کے حقائق بے شمار لا تنتهى دقائقها، ولا تُحصى ہیں۔اُن کے ظہور میں کوئی مانع نہیں اور نہ ہی اُن حقائقها، ولا مانع لظهورها، کے ماہتابوں کے لئے تاریک راتیں ہیں۔بہت ولا محاق لبدورها، وكم من سے علوم ایسے بھی ہیں جو آخرین کے لئے چھوڑ علم ترك للآخرين۔وقد دیئے گئے ہیں۔حقیقت یہ ہے کہ میرے رب نے علمنی ربّى من أسرار ، مجھے بہت سے اسرار سکھائے ہیں اور اخبار ( غیبیہ ) وأخبرني من أخبار ، وجعلني سے اطلاع بخشی ہے اور اُس نے مجھے اس صدی کا مجدد هذه المائة، وخصني في مجدد بنایا اور اپنے علوم میں بڑی فراخی اور وسعت علومه بالبسطة والسعة کے ساتھ مجھے مخصوص فرمایا اور مجھے اپنے رسولوں کا وجعلنى لرسله من الوارثين وارث بنایا۔