اتمام الحجّة

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 68 of 82

اتمام الحجّة — Page 68

اتمام الحجة ☆ ۶۸ اردو تر جمه واتبعتم النفس الدنية، وصرتم اور گھٹیا نفس کی پیروی کرنے لگ گئے اور ایک قوما خاسرين۔أكلتم الدنيا بأنواع گھاٹا پانے والی قوم بن گئے۔مختلف قسم کی الدقاقير وما نجا من فحكم کذب بیانیوں سے تم نے دُنیا کو کھایا اور کوئی أحد من القبيل والدبير۔طورًا كہہ ومہ تمہارے جال سے بچ نہ سکا۔کبھی تم تلدغون في حلل العظات نصائح کا جامہ پہن کر اور کبھی غصہ دلانے والی وأخرى بالكَلِم المحفظات باتیں کر کے (لوگوں کو ) ڈستے ہو۔میں تم میں وأجد فيكم ما يسم بالإخلاق، وه ( خصائل) پاتا ہوں جو اخلاق کو داغدار وما أجد شيئا من محاسن کرتے ہیں مگر میں ان میں حسنِ اخلاق کا شائبہ الأخلاق۔فإنا لله على مصيبة تک نہیں پاتا۔پس اسلام کی اس مصیبت اور الإسلام، وإمحال رياض خير ( حضرت ) خیر الانام (صلی اللہ علیہ وسلم ) کے الأنام۔وإنّا نكتب قصتكم گلستان کی ویرانی پر صرف انا للہ ہی کہا جا سکتا متجرعًا بالغصص، ومتورعا من ہے۔غم کے گلو گیر گھونٹ پی کر اور مبالغہ آمیز مبالغات القصص۔إنكم جعلتم قصوں سے بچتے ہوئے ہم تمہاری داستان رقم کر الإسلام مصطبة المقيفين، أو رہے ہیں۔تم نے اسلام کو قیافہ شناسوں کی خان المدروزین و المُشَقْشِقین آماجگاہ اور گھٹیا اور لاف زنی کرنے والوں کی اتقوا الله ويوم الأهوال وحلول سرائے بنا دیا ہے۔پس ہولناک گھڑی سے، الآفات وتغير الأحوال، واذكروا آفات کے نزول سے اور حالات کی تبدیلی میں الحِمام ومساورة الإعلال، اللہ سے ڈرو۔اور موت اور بیماری کے حملے اور وفضوح الآخرة وسوء المآل آخرت کی رسوائی اور بد انجام کو یا درکھو۔تکبر ، خود واتركوا الكبر والعُجب والخيلاء پسندی اور گھمنڈ کو چھوڑ دو۔کیونکہ یہ چیزیں تمہیں فإنها لا يزيدكم إلا الغطاء۔اندھیروں میں ہی بڑھا ئیں گی۔" هذا سهو الناسخ والصحيح ” الدقارير “۔(الناشر)