اتمام الحجّة

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 64 of 82

اتمام الحجّة — Page 64

اتمام الحجة ۶۴ اردو تر جمه اور توہین اور سب اور ختم نہیں جو اُن سے ظہور میں نہیں آیا۔جب تکفیر اور گالیوں سے کوئی نقصان نہ پہنچا سکے تو پھر بد دعاؤں کی طرف رخ کیا اور دن رات بددعائیں کرنے لگے مگر ایسے بخیلوں سیاہ دلوں کی ظالمانہ بددعا ئیں کیونکر اُس جناب میں قبول ہوں جو دلوں کے مخفی حالات جانتا ہے۔آخر جب بد دعاؤں سے بھی کام نہ نکل سکا تو خدا تعالیٰ سے نومید ہو کر گورنمنٹ انگریزی کی طرف جھکے اور جھوٹی مخبریاں کیں اور مفتر یانہ رسالے لکھے کہ اس شخص کے وجود سے فساد کا اندیشہ اور جہاد کا خوف ہے۔لیکن یہ دانا اور دقیقہ رس اور حقیقت شناس گورنمنٹ ایسی کم فہم تھوڑی تھی کہ ان چالاک حاسدوں کے دھوکہ میں آ جاتی۔گورنمنٹ خوب جانتی ہے کہ ایسے عقیدے تو انہیں لوگوں کے ہیں۔اور یہی لوگ ہیں جو صد ہا برسوں سے کہتے چلے آئے ہیں کہ اسلام کو جہاد سے پھیلانا چاہیئے اور نہ صرف اسی قدر بلکہ یہ بھی ان کا قول ہے کہ جب ان کا فرضی مہدی ظہور کرے گا یا کسی غار میں سے نکلے گا اور اُسی زمانہ میں ان کا فرضی عیسیٰ بھی آسمان پر سے اتر کر کوئی تیز حربہ کفار کے قتل کے لئے اپنے ساتھ ہی آسمان سے لائے گا تو دونوں مل کر دنیا کے تمام کافروں کو قتل کر ڈالیں گے اور جس نے اسلام سے انکار کیا خواہ وہ یہود میں سے ہو یا نصاری میں سے وہ تہ تیغ کیا جائے گا۔یہ ان لوگوں کے بڑے پکے عقیدے ہیں اگر شک ہو تو کسی مولوی کا عدالت میں حلفاً اظہار لیا جاوے۔تا عدالت پر کھل جائے کہ کیا واقعی ان لوگوں کے یہی عقیدے ہیں یا ہم نے بیان میں غلطی کی ہے۔لیکن ہم گورنمنٹ کو بلند آواز سے اطلاع دیتے ہیں کہ اس زمانہ میں جنگ اور جہاد سے دین اسلام کو پھیلانا ہمارا عقیدہ نہیں ہے اور نہ یہ عقیدہ کہ جس گورنمنٹ کے زیر سایہ رہیں اور اس کے ظلّ حمایت میں امن اور عافیت کا فائدہ اٹھاویں اور اس کی پناہ میں رہ کر اپنے دین کی بخوشی خاطر اشاعت کر سکیں اُسی سے باغیوں کی طرح لڑنا شروع کر دیں۔کیا اس گورنمنٹ انگریزی میں ہم امن اور عافیت سے زندگی بسر نہیں کرتے۔کیا ہم حسب مرضی دین کی اشاعت نہیں کر سکتے۔کیا ہم دینی احکام بجالانے سے روکے گئے ہیں۔ہرگز نہیں۔بلکہ سچ اور بالکل سچ