اتمام الحجّة

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 65 of 82

اتمام الحجّة — Page 65

اتمام الحجة اردو تر جمه یہ بات ہے کہ ہم جس کوشش اور سعی اور امن اور آزادی سے اسلامی وعظ اور نصائح بازاروں میں، کوچوں میں، گلیوں میں اس ملک میں کر سکتے ہیں اور ہر یک قوم کو حق پہنچا سکتے ہیں یہ تمام خدمات خاص مکہ معظمہ میں بھی بجا نہیں لا سکتے چہ جائیکہ کسی اور جگہ تو پھر کیا اس نعمت کا شکر کرنا ہم پر واجب ہے یا یہ کہ مفسدہ بغاوت شروع کر دیں۔سواگر چہ ہم مذہب کے لحاظ سے اس گورنمنٹ کو بڑی غلطی پر سمجھتے اور ایک شرمناک عقیدہ میں گرفتار دیکھ رہے ہیں تاہم ہمارے نزدیک یہ بات سخت گناہ اور بدکاری میں داخل ہے کہ ایسے محسن کے مقابل پر بغاوت کا خیال بھی دل میں لاویں۔ہاں بے شک ہم مذہبی لحاظ سے اس قوم کو صریح خطا پر اور ایک انسانی بناوٹ میں مبتلا دیکھتے ہیں۔تو اس صورت میں ہم دعا اور توجہ سے اس کی اصلاح چاہتے ہیں اور خدا تعالیٰ سے مانگتے ہیں کہ اس قوم کی آنکھیں کھولے اور ان (۲۸) کے دلوں کو منور کرے اور انہیں معلوم ہو کہ انسان کی پرستش کرنا سخت ظلم ہے۔حضرت مسیح علیہ السلام کیا ہیں صرف ایک عاجز انسان اور اگر خدا تعالیٰ چاہے تو ایک دم میں کروڑہا ایسے بلکہ ہزارہا درجہ اُن سے بہتر پیدا کر دے وہ ہر چیز پر قادر ہے۔جو چاہتا ہے کرتا ہے اور کر رہا ہے۔مشت خاک کو منور کرنا اس کے نزدیک کچھ حقیقت نہیں۔جو شخص صاف دل سے اور کامل محبت سے اس کی طرف آئے گا بے شک وہ اس کو اپنے خاص بندوں میں داخل کر لے گا۔انسان قرب کے مدارج میں کہاں تک پہنچ سکتا ہے اس کا کچھ انتہا بھی ہے ہرگز نہیں۔اے مُردوں کے پرستار و زندہ خدا موجود ہے اگر اس کو ڈھونڈو گے پاؤ گے۔اگر صدق کے پیروں کے ساتھ چلو گے تو ضرور پہنچو گے۔یہ نامر دوں اور مختوں کا کام ہے کہ انسان ہو کر اپنے جیسے انسان کی پرستش کرنا۔اگر ایک کو با کمال سمجھتے ہو تو کوشش کرو کہ ویسے ہی ہو جاؤ نہ یہ کہ اس کی پرستش کرو۔مگر وہ انسان جس نے اپنی ذات سے اپنی صفات سے اپنے افعال سے اپنے اعمال سے اور اپنے روحانی اور پاک قومی کے پر زور دریا سے کمال تام کا نمونہ علماً وعملاً وصدقا و ثباتا دکھلایا اور انسان کامل کہلایا بخدا وہ مسیح بن مریم نہیں ہے۔میسیج تو صرف ایک معمولی سا نبی تھا۔ہاں وہ بھی کروڑ ہا مقربوں میں سے ایک