اتمام الحجّة

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 63 of 82

اتمام الحجّة — Page 63

اتمام الحجة ۶۳ اردو تر جمه یعنی راقم لھذا کے غلبہ ثابت ہونے کے وقت یہ ہزار روپیہ ہم بلا توقف مرزا ند کور کو دے دیں گے ﴿۲۲﴾ اور رسل بابا کا اس سے کچھ تعلق نہ ہوگا۔اس تحریر کی اس لئے ضرورت ہے کہ تا ہمیں بکلی اطمینان ہو جائے اور سمجھ لیں کہ روپیہ ثالثوں کے قبضہ میں آ گیا ہے اور تا ہم اس کے بعد مولوی رسل بابا کے رسالہ کی بیخ کنی کرنے کے لئے مشغول ہو جائیں۔اور ہم قصہ کوتاہ کرنے کے لئے اس بات پر راضی ہیں کہ شیخ محمد حسین بطالوی یا ایسا ہی کوئی زہرناک مادہ والا فیصلہ کرنے کے لئے مقرر ہو جائے فیصلہ کے لئے یہی کافی ہوگا کہ شیخ بطالوی مولوی رسل بابا صاحب کے رسالہ کو پڑھ کر اور ایسا ہی ہمارے رسالہ کو اول سے آخر تک دیکھ کر ایک عام جلسہ میں قسم کھا جائیں اور قسم کا یہ مضمون ہو کہ اے حاضرین بخدا میں نے اول سے آخر تک دونوں رسالوں کو دیکھا اور میں خدا تعالیٰ کی قسم کھا کر کہتا ہوں کہ در حقیقت مولوی رسل بابا صاحب کا رسالہ یقینی اور قطعی طور پر حضرت عیسی کی زندگی ثابت کرتا ہے۔اور جو مخالف کا رسالہ نکلا ہے اس کے جوابات سے اس کے دلائل کی بیخ کنی نہیں ہوئی۔اور اگر میں نے جھوٹ کہا ہے یا میرے دل میں اس کے برخلاف کوئی بات ہے تو میں دعا کرتا ہوں کہ ایک سال کے اندر مجھے جذام ہو جائے یا اندھا ہو جاؤں یا کسی اور برے عذاب سے مر جاؤں فقط۔تب تمام حاضرین تین مرتبہ بلند آواز سے کہیں کہ آمین آمین آمین۔اور جلسہ برخاست ہو۔پھر اگر ایک سال تک وہ قسم کھانے والا ان بلاؤں سے محفوظ رہا تو کمیٹی مقرر شدہ مولوی رسل بابا کا ہزار روپیہ عزت کے ساتھ اس کو واپس دے دے گی۔تب ہم بھی اقرار شائع کریں گے کہ حقیقت میں مولوی رسل بابا نے حضرت مسیح علیہ السلام کی زندگی ثابت کر دی ہے۔مگر ایک برس تک بہر حال وہ روپیہ کمیٹی مقرر شدہ کے پاس جمع رہے گا اور اگر مولوی رسل بابا صاحب نے اس رسالہ کے شائع ہونے سے دو ہفتہ تک ہزار روپیہ جمع نہ کرا دیا تو اُن کا کذب اور دروغ ثابت ہو جائے گا۔تب ہر ایک کو چاہیئے کہ ایسے دروغ گولوگوں کی شر سے خدا تعالی کی پناہ مانگیں اور اُن سے پر ہیز کریں۔واضح رہے کہ اس مخالف گروہ سے ہمیں عام طور پر تکلیف پہنچی ہے اور کوئی تحقیر