اتمام الحجّة — Page 62
اتمام الحجة ۶۲ اردو تر جمه مشہور رئیسوں کی گواہیاں ثبت ہونی چاہئیں اور جو کسی اخبار میں چھاپ کر ہمیں رجسٹری کرا کر پہنچانی چاہیئے۔تین ہفتہ تک کسی بنک میں پانچ ہزار روپیہ جمع نہ کر اویں تو ہم کا ذب اور ہمارا سب دعوی کذب متصور ہوگا کیونکہ زبانی انعام دینے کا دعوی کرنا کچھ چیز نہیں ایک کا ذب بدنیت بھی ایسا کر سکتا ہے۔سچا وہی ہے کہ جو اُس کی زبان سے نکلا اس کو کر دکھاوے۔ورنہ لعنۃ اللہ علی الكاذبين۔لیکن اگر ہم نے روپیہ جمع کرادیا اور پھر نفاق پیشہ لوگ مقابل پر آنے سے بھاگ گئے تو اس بد عہدی کے باعث سے جو کچھ خرچہ ہمارے عائد حال ہوگا وہ سب براہ راست یا بذریعہ عدالت اُن سے لیا جائے گا اور نیز اس حالت میں بھی کہ جب وہ جواب لکھنے میں عہدہ برا نہ ہو سکیں اس کا اقرار بھی ان کی درخواست میں ہونا چاہیئے۔اب ہم مولوی رسل بابا کے ہزار روپیہ کے انعام کا ذکرکرتے ہیں۔ہم بیان کر چکے ہیں کہ مولوی رسل بابا صاحب نے اپنے رسالہ حیات اسی کو ہزار روپیہ انعام کی شرط سے شائع کیا ہے کہ جو شخص اُن کے دلائل کو توڑ دے اس کو ہزار روپیہ انعام دیا جائے۔مگر مولوی صاحب موصوف نے اسی رسالہ میں یہ بھی بیان کر دیا ہے کہ وہ دلائل رسالہ مذکورہ میں ایک معمایا چیستان کی طرح مخفی رکھے گئے ہیں وہ کسی کو معلوم ہی نہیں ہو سکتے جب تک کوئی انہیں سے اس رسالہ کو سبقاً سبقاً نہ پڑھے۔عقلمند معلوم کر گئے ہوں گے کہ یہ باتیں کس خوف نے ان کے منہ سے نکلوائی ہیں اور کون سا دل میں دھڑ کا تھا جس سے ان روباہ بازیوں کی ضرورت ہوئی ہم تو ان باتوں کے سنتے ہی ڈائن کے اڑھائی حرف معلوم کر گئے اور سمجھ گئے کہ کس درد سے یہ سیاپا کیا گیا ہے اور کس خوف سے دلائل کا حوالہ اپنے پیٹ کی طرف دیا گیا ہے۔بہر حال ہم ان کو اس رسالہ کے ذریعہ سے فہمائش کرتے ہیں کہ وہ ماہ جون ۱۸۹۴ء کے اخیر تک ہزار روپیہ خواجہ یوسف شاہ صاحب اور شیخ غلام حسن صاحب اور میر محمود شاہ صاحب کے پاس یعنی بالا تفاق تینوں کے پاس جمع کرا کر اُن کی دستی تحریر کے ساتھ ہم کو اطلاع دیں جس تحریر میں اُن کا یہ اقرار ہو کہ ہزار روپیہ ہم نے وصول کر لیا اور ہم اقرار کرتے ہیں کہ مرزا غلام احمد