اتمام الحجّة — Page 61
اتمام الحجة ۶۱ اردو تر جمه یعنی شیخ محمد حسین بطالوی اور اس کے نقش قدم پر چلنے والے میاں رسل بابا وغیرہ جو مکفر اور بدگو اور بد زبان ہیں اس خطاب سے باہر نہیں ہیں۔الہام سے یہی ثابت ہوا ہے کہ کوئی کافروں اور مکفروں سے رسالہ نور الحق کا جواب نہیں لکھ سکے گا۔کیونکہ وہ جھوٹے اور کا ذب اور مفتری اور جاہل اور نادان ہیں۔اگر یہ ہمارے الہام کو الہام نہیں سمجھتے اور اپنے خبیث باطن کی وجہ سے اس کو ہماری بناوٹ یا شیطانی وسوسہ خیال کرتے ہیں تو رسالہ نور الحق کا جواب میعاد مقررہ میں لکھیں اور اگر نہیں لکھ سکتے تو ہمارا الہام ثابت۔پھر جن لوگوں نے اپنی نالیاقتی اور بے علمی دکھلا کر ہمارا الہام آپ ہی ثابت کر دیا تو وہ ایک طور سے ہمارے دعوے کو تسلیم کر گئے۔پھر مخالفانہ بکواس قابل سماعت نہیں اور ہماری طرف سے تمام پادریان اور شیخ محمد حسین بطالوی اور مولوی رسل بابا امرتسری اور دوسرے ان کے سب رفقاء اس مقابلہ کے لئے مدعو ہیں اور درخواست مقابلہ کے لئے ہم نے ان سب کو اخیر جون ۱۸۹۴ء تک مہلت دی ہے اور رسالہ بالمقابل شائع کرنے کے لئے روز درخواست سے تین مہینہ کی مہلت ہے۔پھراگرا خیر جون ۱۸۹۴ء تک درخواست نہ کریں تو بعد اُس کے کوئی درخواست سنی نہیں جائے گی اور نادانی ان کی ہمیشہ کے لئے ثابت ہو جائے گی اور مولویت کا لفظ اُن سے چھین لیا جائے گا۔لیکن اگر وہ ماہ جون ۱۸۹۴ء کے اندر بالمقابل رسالہ بنانے کے لئے درخواست کر دیں ﴿۲۵﴾ تو تمام درخواست کنندوں کی ایک ہی درخواست سمجھی جائے گی اور صرف پانچ ہزار روپیہ جمع کرادیا جائے گا نہ زیادہ۔اور ان میں سے جو لوگ رسالہ بالمقابل بنانے میں فتح یاب سمجھے جائیں گے خواہ وہ عیسائی ہوں گے اور یا یہ حق کے مخالف نام کے مولوی اور یا دونوں۔وہ اس پانچ ہزار روپیہ کو آپس میں تقسیم کر لیں گے اور ان کا اختیار ہو گا کہ سب اکٹھے ہوکر رسالہ بناویں غالباً اس طرح سے ان کو آسانی ہو گی مگر آخری نتیجہ ان کے لئے یہی ہوگا کہ خسر الدنيا والآخرة و سواد الوجه في الدارین۔اور اگر ہم ان کی اس درخواست کے آنے کے بعد جس پر کم سے کم دس