اتمام الحجّة — Page 55
اتمام الحجة ۵۵ اردو ترجمہ اور اگر کہو کہ وہ قبر جعلی ہے تو اس جعل کا ثبوت دینا چاہیئے ۔ اور ثابت کرنا چاہیئے کہ کس وقت یہ 19 و اما عدةاميال الفصل بينها وبين طرابلس مگر طرابلس اور قدس میں جو فاصلہ ہے میں تحقیقی طور پر فلا اعلمها تحقيقا نعم يعلم تقريبا نظرا اس کو بتلا نہیں سکتا کہ کس قدر ہے ہاں راہوں اور منزلوں على الطرق والمنازل۔ وتختلف الطرق۔ کے لحاظ سے تقریباً معلوم ہے۔ اور طرابلس سے قدس کی الطريق الاول من طرابلس الى بيروت طرف جانے کی کئی راہیں ہیں۔ ایک راہ یہ ہے کہ فمن طرابلس الى بيروت منزلين طرابلس سے بیروت کو جائیں اور طرابلس سے بیروت متوسطين (وقدر المنزل عندنا من الصباح تک دو متوسط منزلیں ہیں۔ اور ہم لوگ منزل اس کو کہتے الى قريب العصر ومن بيروت الى صيدا ہیں جو صبح سے عصر تک سفر کیا جائے اور پھر بیروت سے منزل واحد و من صيدا الى حيفا منزل صیدا تک ایک منزل ہے اور صیدا سے حیفا تک ایک واحد ومن حيفا الى عكا منزل واحد ومن منزل اور حیفا سے عکا تک ایک منزل اور عکا سے سورتک عكا الى سور منزل واحد و يقال لبلاد ایک منزل اور بلاد شام کو سور یہ اسی نسبت کی وجہ سے کہتے الشام سوريه نسبة الى تلك تلك البلدة فی ہیں یعنی اس بلدہ قدیمہ کی طرف منسوب کر کے سوریہ نام القديم۔ ثم من سور الى يافا منزل كبير رکھتے ہیں پھر سور سے یا فا تک ایک منزل کبیر ہے اور یافا وهـي عـلـى ساحل البحر ومنها الى القدس بحر کے کنارے پر ہے اور یافا سے قدس تک ایک چھوٹی منزل صغير والان صنع الريل منها الی سی منزل ہے اور اب یافا سے قدس تک ریل طیار ہو گئی القدس ويصل القاصد من يا فا الى القدس ہے۔ اور اگر ایک مسافر یافا سے قدس کی طرف سفر في اقل من ساعة فعدة المسافة من طرابلس کرے تو ایک گھنٹہ سے پہلے پہنچ جاتا ہے۔ سواس الى القدس تسعة ايام مع الراحة واليها حساب سے طرابلس سے قدس تک نو دن کا سفر آرام ۲۲ طرق من طرابلس واقربها طريق البحر کے ساتھ ہے مگر سمندر کا راہ نہایت قریب ہے۔ اور اگر بحيث لو ركب الانسان من طرابلس انسان اگن بوٹ میں بیٹھ کر طرابلس سے قدس کو جانا بالمركب الناري يصل الى يافا بيوم چاہے تو یا فا تک صرف ایک دن اور رات میں پہنچ جائے وليلة ومنها الى القدس ساعة في الريل گا اور یافا سے قدس تک صرف ایک گھنٹہ کے اندر۔