اتمام الحجّة — Page 52
اتمام الحجة ۵۲ اردو تر جمه ہیں کہ اس پر اجماع ہے کسی نے سچ کہا ہے کہ ملا آن باشد که بند نشود اگر چه دروغ گوید۔یہ حضرات یہ بھی جانتے ہیں کہ خود اجماع کے معنوں میں ہی اختلاف ہے۔بعض صحابہ تک ہی محدود رکھتے ہیں۔بعض قرون ثلاثہ تک بعض ائمہ اربعہ تک مگر صحابہ اور ائمہ کا حال تو معلوم ہو چکا اور اجماع کے توڑنے کے لئے ایک فرد کا باہر رہنا بھی کافی ہوتا ہے چہ جائے کہ امام مالک رضی اللہ عنہ جیسا عظیم الشان امام جس کے قول کے کروڑ ہا آدمی تابع ہوں گے حضرت عیسی کی وفات کا صریح قائل ہو۔اور پھر یہ لوگ کہیں کہ ان کی حیات پر اجماع ہے۔شرم۔شرم۔شرم۔اور اجماع کے بارے میں امام احمد رضی اللہ عنہ کا قول نہایت تحقیق اور انصاف پر مبنی ہے وہ فرماتے ہیں کہ جو شخص اجماع کا دعویٰ کرے وہ جھوٹا ہے۔اس سے معلوم ہوا کہ مسلمانوں کے لئے کچی اور کامل دستاویز قرآن اور حدیث ہی ہے باقی ہمہ بیچے۔مگر جو حدیث قرآن کی بینات محکمات کے مخالف ہوگی اور اس کے قصص کے برخلاف کوئی قصہ بیان کرے گی۔وہ دراصل حدیث نہیں ہوگی کوئی محرف قول ہوگا یا سرے سے موضوع اور جعلی۔اور ایسی حدیث بلا شبہ رد کے لائق ہوگی۔لیکن یہ خدا تعالیٰ کا فضل اور کرم ہے کہ مسئلہ وفات مسیح میں کسی جگہ حدیث نے قرآن شریف کی مخالفت نہیں کی بلکہ تصدیق کی۔قرآن میں متوفيك آیا ہے حدیث میں مميتك آ گیا ہے۔قرآن میں فلما توفیتنی آیا۔حدیث میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے وہی لفظ فـلـما ۱۸ تو فیتنی بغیر تغیر و تبدیل کے اپنے پر وارد کر کے ظاہر فرما دیا کہ اس کے معنے مارنا ہے نہ اور کچھ اور نبی کی شان سے بعید ہے کہ خدا تعالیٰ کے مرادی معنوں کی تحریف کرے۔اور ایک آیت قرآن شریف کی جس کے معنے خدا تعالیٰ کے نزدیک زندہ اٹھا لینا ہو اسی کو اپنی طرف منسوب کر کے اس کے معنے ماردینا کر دیوے یہ تو خیانت اور تحریف ہے اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف اس گندی کارروائی کو منسوب کرنا میرے نزدیک اول درجہ کا فسق بلکہ کفر کے قریب قریب ہے۔افسوس کہ حضرت عیسی کی زندگی ثابت کرنے کے لئے ان خیانت پیشہ مولویوں کی کہاں تک نوبت پہنچی ہے کہ نعوذ باللہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو بھی محرف القرآن ٹھہرایا بجز اس کے کیا کہیں کہ