اتمام الحجّة — Page 47
اتمام الحجة ۴۷ اردو تر جمه مولوی رسل بابا صاحب امرتسری کے رسالہ حیات المسیح پر ایک اور نظر اور نیز مزار رو پیدا نعامی جمع کرانے کے لئے درخواست ہم ابھی بیان کر چکے ہیں کہ ان دنوں میں مولوی صاحب مندرج العنوان نے ایک کتاب حضرت عیسی علیہ السلام کی زندگی ثابت کرنے کے لئے لکھی ہے جس کا نام حیات اسیح رکھا ہے۔لیکن اگر یہ پوچھا جائے کہ انہوں نے باوجود اس قدر محنت اٹھانے اور وقت ضائع کرنے کے ثابت کیا کیا ہے تو ایک مصنف آدمی یہی جواب دے گا کہ کچھ نہیں۔اگر مولوی صاحب موصوف کی نیت بخیر ہوتی اور ان کے اس کاروبار کی علت غائی حق الامر کی تحقیق ہوتی نہ اور کچھ تو وہ اس رسالہ کے لکھنے سے پہلے قرآن شریف کی ان آیات بینات کو غور سے پڑھ لیتے جن سے حضرت عیسی علیہ السلام کی وفات ایسی صاف طور پر ثابت ہو رہی ہے کہ گویا وہ ہماری آنکھوں کے سامنے فوت ہو گئے اور دفن کئے گئے۔لیکن افسوس کہ مولوی صاحب موصوف ان محکم اور بین آیات سے آنکھ بند کر کے گزر گئے اور بعض دوسری آیات میں تحریف کر کے اور اپنی طرف سے اور فقرے ان کے ساتھ ملا کر عوام کو یہ دکھلانا چاہا کہ گویا ان آیتوں سے حضرت عیسی کی حیات کا پتہ لگتا ہے۔لیکن اگر مولوی صاحب کی اس مفتر یانہ کارروائی سے کچھ ثابت ہوتا بھی ہے تو بس یہی کہ ان کی فطرت میں یہودیوں کی صفات کا خمیر بھی موجود ہے ورنہ یہ کسی نیک بخت آدمی کا کام نہیں ہے کہ قرآن کریم کی ظاہر ترکیب کو توڑ مروڑ کر اور آیات کے غیر منفک تعلقات کو ایک دوسری سے الگ کر کے اور بعض فقرے اپنی طرف سے زائد کر کے کوئی امر ثابت کرنا چاہے اگر اسی بات کا نام ثبوت ہے تو کونسا امر ہے جو ثابت نہیں ہوسکتا۔بلکہ ہر ایک ملحد اور بے ایمان اپنے مقاصد اسی طرح ثابت کر سکتا ہے۔اس بات کو کون نہیں جانتا کہ ایک کتاب کے معنے اسی صورت میں اس کتاب کے معنے کہلاتے ہیں کہ جب اس کی ترتیب اور تعلقات فقرات اور سیاق سباق محفوظ رکھ کر کئے جائیں۔لیکن اگر اس کتاب کی ترتیب کو ہی زیروز بر کیا جائے اور عبارت کے مصنف سہو کتابت ہے۔درست لفظ ” منصف ہے۔(ناشر)