اتمام الحجّة — Page 42
اتمام الحجة ۴۲ اردو تر جمه فأقامني برحمة خاصة فی أیام اس پر اللہ نے اپنی رحمت خاص سے اس غربت اور الراحمين۔وہ إقلال وخصاصة، ليجعل بے بسی کے زمانہ میں مجھے کھڑا کیا تاکہ المسلمين من المنعمين مسلمانوں کو آسودہ حال کرے اور اُنہیں وہ عطا ويعطيهم ما لم يعط لآبائهم کرے جو ان کے آبا ؤ اجداد کو نہ دیا گیا تھا۔اور ويرحم الضعفاء ، وهو أرحم ناتوانوں پر رحم کرے اور وہی ذات ہے جو سب رحم کرنے والوں سے بڑھ کر رحم کرنے والی ہے۔وما قمت بهذا المقام إلا میں اس مقام (امامت ) پر قادر و توانا خدا کے بأمر قدير ، يبعث الإمام ويعلم حکم سے ہی کھڑا ہوا ہوں جو امام مبعوث فرماتا ہے الأيام، حکیم علیم یری أیام اور وہ (ضرورت ) زمانہ کو جانتا ہے وہ حکیم وعلیم الغي والضلال، وصراصر ضلالت و گمراہی کے زمانے کو اور عورتوں اور مردوں الفساد في النساء والرجال میں فساد کی بادِ صر صر کو اچھی طرح دیکھتا ہے۔گنا ہوں تناهي الخلق فى التخطى إلى میں آگے بڑھنے میں مخلوق اپنی انتہاء کو پہنچ گئی اور اپنی الخطايا، وعقروا مطا المطايا، سواریوں کی پیٹھوں کو زخمی کر دیا اور حق کو کونوں ودفنوا الحق في الزوايا ، ولمع کھدروں میں دفن کر دیا اور باطل آئینوں کی طرح الباطل كالمرايا، فرأى هذا چمک اُٹھا اور یہ سب کچھ مخلوق کے رب نے كله ربُّ البرايا، فبعث عبدًا من دیکھا تب اس نے اپنے بندوں میں سے ایک العباد عند وقت الفساد، بندے کو اس فساد کے موقع پر مبعوث فرمایا۔اے أعجبتـم مـن فـضـلـه يـا جَمُرَ بغض و عناد کے انگارو! کیا تم اُس کے فضل پر تعجب العناد؟ فلا تتكثوا على الظنون کرتے ہو۔پس شکوک و بد گمانیوں پر تکیہ نہ کرو۔اللہ ولله اسرار کالدر المکنون کے اسرار در مکنون کی طرح ہیں۔وہ ہر زمانے میں یبلی عباده في كل زمان، اپنے بندوں کو آزماتا ہے۔۱۳