اتمام الحجّة

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 41 of 82

اتمام الحجّة — Page 41

اتمام الحجة اردو تر جمه وما بال أرض يحرثها اور اُس زمین کا حال کیا ہوگا جس پر تمہارے جیسے كحزبكم الفلاحُ؟ ولا شك لوگ کھیتی باڑی کرتے ہوں۔بلا شبہ تم دین اور أنكم أن أعداء الدين وعدا الشرع شرع متین کے دشمن ہو۔اور ہم جانتے ہیں کہ المتين۔ونعلم أن قصر الإسلام اسلام کا محل تمہاری وجہ سے اور تمہارے ہاتھوں منكم ومن أيديكم عفا، ولم پیوندِ خاک ہو گیا ہے۔اور اب صرف اُس کے يبق منه إلا شفا، ولولا رحمة کھنڈرات باقی رہ گئے ہیں اور اگر میرے رب کی ربي لأحاطه الدجى، وكان الله رحمت نہ ہوتی تو تاریکیاں اس کا احاطہ کر لیتیں۔حافظه وهو خير الحافظين۔اللہ ہی اُس کا محافظ ہے اور وہی بہترین محافظ ہے۔ألا تنظرون أنكم كم کیا تم نہیں دیکھتے کہ تم کتنی راہوں پر چلے فَجٍّ سلکتم و کم رجل اور کتنے لوگوں کو تم نے ہلاک کیا اور کتنی أهـلـكتـم، وكم بدع ابتدعتم، بدعتیں ایجاد کیں اور کتنی قوموں کو دھوکا دیا وكم قوم خدعتم و کم عرض اور کتنی عزتیں پامال کیں اور کتنے مکاروں اختلستم و کم ثعلب کو تم نے مات دی۔لیکن اب حق ظاہر افترستم؟ أما الآن فالحق قد ہو گیا ہے اور رب رحیم نے رحم فرمایا اور بان ورحم الرب الرحيم شب دیجور پُر نور ہوگئی اور دین قویم روشن واستنار الليل البهيم وأنار ہو گیا۔اور تمہاری ناپسندیدگی کے علی الرغم الدين القويم وظهر أمر الله الله کا امر ظا ہر ہو گیا۔اللہ کی ہر گھڑی پر نظر و کنتم كارهين۔إن لله في كل ہے۔پس اُس نے اپنے دین پر رحمت کی نگاہ يوم نظرةً، فنظر الدین رحمةً ، ڈالی۔اُس نے اس ( دین ) کو دشمنوں کے تیروں ووجده غرضًا لسهام الأعداء ، کا نشانہ پایا اور اسے ایسی حالت میں پایا کہ وہ و كالوحيد الطريد فى البيداء، ایک لق و دق صحراء میں تنہا بے یارو مددگار ہے۔