اتمام الحجّة — Page 39
اتمام الحجة ۳۹ اردو تر جمه يا حسرة على أعدائنا إنهم صد افسوس ہمارے دشمنوں پر کہ اُنہوں نے رحمن صرفوا النظر عن صحف الله الله کے صحیفوں سے اپنی نظریں پھیر لی ہیں اور الرحمن، وما طلبوا معارفها عرفان کے متلاشیوں کی طرح انہوں نے قرآنی كطلاب العرفان وأفنوا معارف کی تلاش نہیں کی۔اور اپنا سارا وقت اور زمانهم وعمرهم في أقوال اپنی پوری عمر ایسے اقوال میں فنا ( بر باد ) کر دی جو لاتوصلهم إلى روضات انہیں اطاعت کے باغات تک نہیں پہنچا سکتے۔اور الإذعان، ولا تسقيهم من ينابيع نہ وہ انہیں ایمان کے پاک چشموں سے سیراب مطهرة للإيمان، ومانری کرتے ہیں اور ہم اُن کے اقوال کو افتراء أقوالهم إلا كــصــاغـين پردازوں کی باتوں کی طرح دیکھتے ہیں۔اے باللسان۔فيامعشر العُمی اندھے اور کانے لوگوں کے گروہ! اللہ سے ڈرو والعُور۔اتقوا الله ولا تجترء وا اور معاصی اور فسق و فجور پر دلیری مت دکھاؤ اور على المعاصي والفجور، وہ راہ اختیار کرو جس میں نہ ارتکاب ظلم کا اندیشہ وتخيروا طريقا لا تخشون فيه ہو اور نہ کسی تلوار کی ضرب کا اور نہ کسی ڈسنے مس حيف ولا ضرب سیف والے کے ڈنگ کا اور نہ کسی وسیع وادی کی ولا حُمَة لاسع ولا آفة وادٍ مصیبت کا خدشہ ہو اور اللہ کے حضور مطبع بن کر واسع، وقوموا لله قانتين | ایستادہ رہو اور میری اس بات پر غور کرو کہ جو کچھ وفكروا في قولی۔هل صدقت میں نے کہا ہے کیا وہ سچ ہے یا جو کچھ میں نے کہا فيمانطقت ، أو ملتُ فيما ہے اُس میں سچائی سے ہٹ گیا ہوں؟ اور خشوع قلت، وتفكروا كالخاشعین کرنے والوں کی طرح غور و فکر کرو۔تمہیں کیا ہو گیا مالكم لاتستعدّون لقبول ہے کہ تم حجت قبول کرنے میں مستعدی ظاہر نہیں الحجّة وتزيغون عن المحجّة کرتے اور سیدھے راستے سے ہٹ رہے ہو۔