اتمام الحجّة

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 38 of 82

اتمام الحجّة — Page 38

اتمام الحجة ۳۸ اردو تر جمه واسودت الأرض من هذا اور اس قبیح عقیدے کے باعث زمین سیاہ ہوگئی الاعتقاد القبيح، ومع ذلك لا ہے۔بایں ہمہ تم حیات (مسیح ) پر دلیل لانے کی تقدرون على إيراد دلیل علی قدرت نہیں رکھتے اور لوگوں کی باتوں کو لے لیتے الحياة ، وتأخذون بأقوال ہو لیکن اللہ اور سرور کائنات کے فرمان کو قبول الناس ولا تقبلون قول الله نہیں کرتے۔اور تم جانتے ہو کہ جس نے قرآن وسيد الكائنات۔وتعلمون أنه كى تفسیر بالرائے کی اگر وہ درست بھی ہو تو اس من فسر القرآن برأيه وأصاب نے خطا کی۔پھر بھی تم اپنی خواہشات کی اتباع فقد أخطأ، ثم تتبعون أهواء کم کرتے ہو اور اس ہستی سے نہیں ڈرتے جس نے ولا تتقون من ذرأ وبرأ، سب کچھ پیدا کیا ہے۔اور بیباک لوگوں کی طرح وتتكلمون كالمجترئین۔وإذا باتیں کرتے ہو۔اور جب تمہارے سامنے فرقانِ قرء علیکم آیات الفرقان فلا (حمید) کی آیتیں پڑھی جائیں تو تم انہیں قبول تقبلونها، وإن قُرِءَ نصف نہیں کرتے خواہ نصف قرآن بھی پڑھ دیا جائے۔القرآن، وإنْ عُرِضَ غیرہ، اور اگر قرآن کے علاوہ جو بھی پیش کیا جائے اُسے تم بخوشی قبول کر لیتے ہو۔فتقبلونه مستبشرين۔لا تلتفتون إلى كتاب الله تم اللہ رحمن کی کتاب کی طرف توجہ نہیں کرتے۔الرحمن، وتسعون إلى غيره اور اس ( قرآن ) کے غیر کی طرف خوشی خوشی لپکتے فرحين۔وليت شعری کیف یجوز ہو۔کاش مجھے یہ معلوم ہوتا کہ جب ہم نے فرقان الاتكاء على غير القرآن بعد ما کے بینات دیکھ لئے تو اس کے بعد قرآن کے علاوہ رأينا بينات الفرقان ؟ أتوصلكم کسی اور چیز پر بھروسہ کرنا کیسے جائز ہوسکتا ہے۔کیا غير القرآن إلى اليقين والإذعان؟ قرآن کے علاوہ کوئی اور چیز تمہیں طاعت ویقین فأتوا بدليل إن كنتم صادقین تک پہنچا سکتی ہے؟ اگر تم سچے ہو تو کوئی دلیل لاؤ۔