اتمام الحجّة

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 32 of 82

اتمام الحجّة — Page 32

اتمام الحجة ۳۲ اردو تر جمه ولا تتقى براثن الأسد و تسعى تجھے شیر کے پنجوں کا خوف نہیں اور تو اندھوں كالعمى والعُور، وإنا كشفنا اور کانوں کی طرح دوڑتا پھرتا ہے۔ہم نے ظلامك، ومزقنا كلامك، تیرے اندھیروں کا پردہ چاک کر دیا ہے اور وستعرف بعد حين أتؤمن بحياة تیرے کلام کو پارہ پارہ کر دیا ہے۔اور مجھے جلد المسيح كالجهول الوقیح، وتحسبه ہی معلوم ہو جائے گا۔کیا تو ایک بے حیا جاہل كأنه استثنى من الأموات وما شخص کی طرح حیات مسیح پر ایمان رکھتا ہے۔أقمت عليه دليلا من البينات اور یہ خیال کرتا ہے کہ گویا وہ (مسیح) مُردوں والمحكمات، ولا من الأحاديث سے متقی ہیں تم نے اس پر بینات ، محکمات اور المتواترة من خير الكائنات، نہ ہی سرور کائنات کی احادیث متواترہ سے فكذبت في دعوى الإثبات، کوئی دلیل پیش کی۔پس اے جھوٹ کے پتلے وباعدت عن أصول الفقه يا أخا تو نے اپنے اثبات دعوی میں جھوٹ سے کام الترهات۔أيها الجهول العجول لیا اور اصول فقہ سے دور ہٹ گیا۔اے جاہل المخطى المعذول ، قف وفكّرُ مطلق ، شتاب کار، خطا کار ملامت زده شخص! برزانة الحصاة، ما أوردت دلیلا رُک اور سنجیدگی اور عقل سے سوچ ! کہ تُو نے على دعوى الحياة، وما اتبعث إلا حيات (مسیح) کے دعویٰ پر کوئی دلیل پیش نہیں الظنيات، بل الوهميات۔ونتيجة کی۔اور تو نے صرف ظنیات بلکہ تو ہمات کی الأشكال لا يزيد على المقدمات پیروی کی ہے۔اشکال کا نتیجہ مقدمات (صغری ، فإذا كانت المقدمتان ظنيتين کبری) سے زیادہ نہیں ہوتا جب مقدمہ صغریٰ و فالنتيجة ظنّية، كما لا يخفى على كبرى ظنی ہوں تو اُن کا نتیجہ بھی ظنی ہو گا۔جیسا ذوى العينين۔وإن كنت لا تفهم هذه كه اہل بصیرت پر مخفی نہیں اگر تو ان دقائق کو سمجھ الدقائق، ولا تدرك هذه الحقائق نہیں پاتا اور تجھے ان حقائق کا ادراک نہیں