اتمام الحجّة

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 24 of 82

اتمام الحجّة — Page 24

اتمام الحجة ۲۴ اردو تر جمه بشرط كونها مستغنية من اس شرط کے ساتھ کہ وہ تاویل کرنے والوں کی تأويلات المؤوّلين، ومنزهة تأویلات سے بے نیاز اور ایسے تعارض اور تناقض عن تعارض وتناقض يوجب سے پاک ہوں جو محققین کے نزدیک ضعف کا الضعف عند المحققين۔الثاني قطعي الثبوت ظنّي دوم - قَطْعِيُّ القُبُوتِ ظَنِّيُّ الدَّلَالَةِ : الدلالة، كالآيات والأحادیث جیسے وہ آیات اور احادیث جن کی صحت اور الـمـاؤلة مع تحقق الصحة اصالت تو قطعی ہو لیکن اُن کی تاویل کی والأصالة۔موجب ہو۔جاسکتی ہو۔الثالث ظنی الثبوت قطعی سوم - ظَنِّى القُبُوتِ وَ قَطْعِيُّ الدَّلَالَةِ : الدلالة، كالأخبار الآحاد جیسے وہ اخبار احاد (احادیث ) جو ہوں تو واضح الصريحة مع قلة القوّة وشيء لیکن زیادہ قوی نہ ہوں اور ان میں کسی قدر نقص من الكلالة۔پایا جاتا ہو۔الرابع ظنّى الثبوت والدلالة چهارم - ظَنِّى النُّبُوتِ وَالدَّلَالَةِ : الى كالأخبار الآحاد المحتملة | احاد حدیثیں جو کئی معانی پرمن مشتمل ہوں اور المعاني والمشتبهة۔مشتبہ ہوں۔ولا يخفى أن الدليل القاطع اور یہ بالکل عیاں ہے کہ دلائل میں سب القوى هو النوع الأول من الدلائل سے قاطع اور قوی دلیل پہلی قسم ہے اور سائل کو ولا يمكن من دونه اطمینان اس کے بغیر اطمینان حاصل نہیں ہو سکتا۔السائل۔فإنّ الظَّنَّ لا يُغْنِی مِنَ الْحَقِّ کیونکہ حق کے مقابل میں ظن کی کوئی حقیقت شَيْئًا، ولا سبيل له إلى يقين أصلا نہیں اور وہ قطعا یقین کی طرف راہ نہیں پاتا۔