اتمام الحجّة

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 23 of 82

اتمام الحجّة — Page 23

اتمام الحجة ۲۳ اردو تر جمه فإذا تقرر هذا فنقول إنّا اذا پھر جب یہ بات پختہ طور پر ثابت ہو گئی تو ہم نظرنا إلى زمان بعث فيه المسیح کہتے ہیں کہ جب ہم اُس زمانہ پر نظر ڈالتے ہیں فشهد النظر الصحيح أنه كل جس میں مسیح مبعوث کئے گئے تو ہماری صحیح نظر اس من كان في زمانه من أعدائه بات کی گواہی دیتی ہے کہ آپ کے زمانے کے تمام وأحبــائــه و جـيـرانـه وإخوانه لوگ، خواہ آپ کے دشمن ہوں یا دوست۔پڑوسی وخلانه وخالاته وأمهاته ہوں، بھائی ہوں، یار دوست ہوں، خالائیں | وعماته وأخواته، وكل من كان ہوں ، مائیں ہوں، پھوپھیاں ہوں اور بہنیں ہوں في تلك البلدان والديار اور وہ سب جو ان علاقوں، شہروں اور آبادیوں میں والعمران، كلهم ماتوا وما نری بستے تھے وہ سب کے سب مر گئے تھے اور ان میں أحدا منهم فى هذا الزمان سے کسی کو بھی ہم اس زمانے میں (زندہ) نہیں فمن ادعى أن عيسى بقى منهم دیکھتے۔پس جو کوئی یہ دعویٰ کرے کہ ان میں سے حيا وما دخل في الموتى فقد عیسی زندہ بچ گئے تھے اور مردوں میں داخل نہ استثنى، فعليه أن يُثبت هذا ہوئے تو اُس نے انہیں مستثنیٰ قرار دیا۔پس اُس پر الدعوى۔وأنت تعلم أن الأدلة فرض ہے کہ وہ اس دعوی کا ثبوت دے۔اور تم عند الحنفيّين لإثبات ادعاء جانتے ہو کہ مدعیوں کے دعوی کے ثبوت کے لئے المدعين اربعة انواع كما لا حنفیوں کے نزدیک دلائل کی چار قسمیں ہیں جو اہل فکر سے مخفی نہیں۔يخفى على المتفقهين۔الأوّل قطعي الثبوت والدلالة وليس اوّل قَطْعِيُّ القُبُوتِ وَالدَّلَالَةِ جس فيها شيء من الضعف والكلالة | میں کسی قسم کا کوئی ضعف اور نقص نہ ہو جیسے كالآيات القرآنية الصريحة، والأحاديث المتواترة الصحيحة صريح قرآنی آیات اور احادیث متواترہ صحیحہ۔