اتمام الحجّة

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 22 of 82

اتمام الحجّة — Page 22

اتمام الحجة ۲۲ اردو تر جمه إنا لا نرغب في عطاء هذا الرجل | کہ ہمیں اس شخص کی عطا اور انعام میں کوئی دلچسپی وإنعامه، بل نحسبه فضولا نہیں بلکہ ہم اُسے اس کے بیہودہ کلام کی طرح كفضول كلامه، وما نريد إلا أن بیہودہ ہی سمجھتے ہیں۔ہم تو بس یہی چاہتے ہیں کہ نریه جزاء اجترامه لئلا يغتر اس کو اس کے جرم کی سزا دکھا دیں تا کہ بعض بعض الجهلة من المتعصبين۔متعصب جاہل دھوکا نہ کھائیں۔فاعلم يا من ألف الكتاب ويطلب پس اے وہ شخص جس نے یہ کتاب تالیف کی ہے منا الجواب، إنا جئناك راغبين في اور جو ہم سے جواب مانگتا ہے تجھے معلوم ہو کہ ہم یہ استماع دلائلك، لننجيك من خواہش لے کر تیرے پاس آئے ہیں کہ تیرے دلائل غوائلك، ونجيح أصل رزائلك بغور سنیں اور تجھے تیری ہلاکت آفرینیوں سے بچائیں ونريك أنك من الخاطئين اور تیری کمینگیوں کی جڑ کاٹ کے رکھ دیں اور تجھے وأنت تعلم أن حمل الإثبات ليس بتادیں کہ تو خطا کار ہے اور یہ تو تو جانتا ہی ہے کہ بارِ علينا بل على الذي ادعى الحياة ثبوت ہم پر نہیں۔بلکہ اس پر ہے جو حیات مسیح کا مدعی ويقول إن عيسی ما مات ولیس ہے اور یہ کہتا ہے کہ عیسی مرے نہیں اور نہ ہی مردوں من الميتين۔فإن حقيقة الادعاء میں شامل ہیں۔دلائل کے بغیر استثناء کے طریق اختيار طرق الاستثناء بغير أدلة اختیار کرنے کے دعوی کی حقیقت ایسی ہی بے بنیاد دالة على هذه الآراء ، أعنى إدخال آراء پر دلالت کیا کرتی ہے۔میرا مطلب یہ ہے کہ أشياء كثيرة في حكم واحد، ثم بہت سی چیزوں کو حکم واحد میں داخل کرنا اور پھر اُس إخراج شيء منه بغير وجه الإخراج میں سے کسی چیز کو وجہ اخراج اور وجہ ثبوت کے بغیر و سبب شاهد، وهذا تعريف لا اس سے خارج کر دینا یہ ایسی تعریف ہے جس کا نہ تو ینکرہ صبى ولا غبي، إلا الذي کوئی بچہ انکار کر سکتا ہے اور نہ نادان۔بجز اس شخص كان من تعصبه كالمجنونين۔کے جو جنونیوں جیسا تعصب رکھتا ہو۔