اتمام الحجّة — Page 20
اتمام الحجة اردو تر جمه نتى اجترأ بعض الناس من پھر ان میں سے ایک شخص نے وسوسہ ڈالنے والے وساوس الوسواس الخنّاس شیطان کے وسوسوں کے زیر اثر اپنا قلم چلا کرعوام کو على أن يخدع بعض العوام دھوکا دینے کی جرات کی اور اس غرض سے ایک بصرير الأقلام، فألف كتابا کتاب تالیف کی۔لیکن خدا کی تقدیر کہ انعام کی لهذا المرام، وقيض القدر شرط پر جو اس نے کتاب شائع کی وہی اُس کی پردہ لهتك ستره أنه أشاع الكتاب دری کا باعث بنی۔اُس نے دعویٰ کیا کہ اُس نے بشرط الإنعام، وزعم أنه سكتنا ہمیں خاموش و گنگ کر دیا ہے اور لاجواب کرنے وبكتنا وأدى مراتب الإفحام کے تمام مراتب طے کر لئے ہیں اور وہ غالبوں میں وصار من الغالبين۔فنهضنا سے ہو گیا ہے۔اس پر ہم اُٹھ کھڑے ہوئے تا کہ لنعجم عُودَ دعواه، وماءَ ہم اُس کے دعوی کی حقیقت اور اُس کے گھاٹ شقياه، ونمزق الکذاب کے پانی کو پرکھیں اور اُس کذاب اور اُس کے فساد وبلـواه، ونُری جنوده ما کانوا کو پارہ پارہ کردیں اور اُس کے لشکر کو وہ کچھ دکھاویں جس سے وہ غافل تھے۔فإن إنعامه أوحش الذين اُس شخص کے اس انعام نے حیوان صفت لوگوں هم كالأنعام، وإعلامه أو هش کو وحشی بنا دیا اور اُس کے اعلان نے لگڑ بگڑ صفت بعض العيلام، وما علموا لوگوں کو ورطہ حیرت میں ڈال دیا اور وہ اُس کی خبث قوله وضعف صوله، باتوں کی خباثت اور اُس کے حملے کی کمزوری کو نہ وحسبوا ســرابه كماء معین جان سکے۔اور اُنہوں نے اُس کے سراب کو جاری و كنت آليتُ أن لا أتوجه إلا شیریں چشمہ سمجھا اور میں نے یہ قسم کھا رکھی تھی کہ إلى أمر ذى بال، ولا أضيع صرف اہم معاملہ کی طرف ہی توجہ کروں گا اور بحث الوقت لكل مناضل ونضال وتمحیص میں وقت ضائع نہیں کروں گا۔میں نے عنه غافلين۔