اتمام الحجّة — Page 17
اتمام الحجة ۱۷ اردو تر جمه وقال الإمام عبد الوهاب الشعراني امام عبد الوھاب شعرانی ” جو مستند علماء کے ہاں المقبول عند الثقات، في كتابه بہت مقبول ہیں وہ اپنی مشہور کتاب الطبقات میں المعروف باسم الطبقات وكان فرماتے ہیں کہ ”میرے بزرگ افضل الدین رحمہ اللہ سيدى أفضل الدين رحمه الله يقول فرماتے تھے کہ صوفیاء کا اکثر کلام ظاہراً معتزلہ اور كثير من كلام الصوفية لا يتمشى فلاسفہ کے قواعد پر ہی چلتا ہے۔پس کوئی عقل مند ظاهره إلا على قواعد المعتزلة شخص صرف اس وجہ سے کہ یہ علم کلام اُن والفلاسفة، فالعاقل لا يُبادر إلى ( معتزلہ) کی طرف منسوب ہوتا ہے اس کے الإنكار بمجرد عزاء ذلك الكلام انکار میں جلدی نہیں کرے گا۔بلکہ وہ اُن کے ان إليهم، بل ينظر ويتأمل في أدلتهم دلائل پر پورا پورا غور وفکر کرے گا۔پھر وہ (امام ثم قال ورأيت في رسالة سيدى شعرانی ) فرماتے ہیں کہ سیدی الشیخ محمد المغربی الشيخ محمد المغربي الشاذلي الشاذلی کے رسالہ میں میں نے یہ دیکھا اعلم أن طريق القوم مبنی علی شهود جان لو کہ قوم (صوفیاء) کا طریق اثبات حق کے لو الإثبات، وعلى ما يقرب من طريق یقین پر مبنی ہے اور بعض حالات میں وہ معتزلہ کے المعتزلة في بعض الحالات۔هذا طريق کے قریب ہے۔یہ ہم نے لواقح الانوار ما نقلنا من لواقح الأنوار، فتدبر سے نقل کیا ہے۔پس برگزیدہ لوگوں کی طرح غور كالأخيار، ولا تعرض كالأشرار، کر۔اور شریروں کی طرح اعراض نہ کر اور حد سے ہے۔ولا تختر سبيل المعتدين۔تجاوز کرنے والوں کی راہ اختیار نہ کر۔وإن قلت إن الإجماع قد انعقد اگر تم یہ کہو کہ ائمہ اربعہ کے مخالف مذاہب پر على عدم العمل بالمذاهب المخالفة عمل نہ کرنے پر اجماع ہو چکا ہے تو ہم للأئمة الأربعة، فقد بينا لك حقيقة تمہارے لئے اس اجماع کی حقیقت بیان کر الإجماع، فلا تصل ،کالسباع چکے ہیں۔پس تو درندوں کی طرح حملہ آور نہ