اتمام الحجّة — Page 15
اتمام الحجة ۱۵ اردو تر جمه ثم بعد البخارى انظروا يا ذوى اے صاحب بصیرت لوگو! پھر بخاری کے بعد تم الأبصار ، إلى كتابكم المسلم اپنی مسلمہ کتاب مجمع البحار “پر غور کرو۔مجـمـع البـحـار فـإنه ذكر اس نے (حضرت ) عیسی علیہ السلام کے معاملے اختلافات في أمر عیسی علیه میں اختلافات کا ذکر کیا ہے۔اور پہلے ان کی السلام، وقدّم الحياة ثم قال : حیات کا ذکر کیا ہے اور پھر کہا ہے کہ مالک وقال مالك مات۔فانظروا فرماتے ہیں کہ وہ فوت ہو گئے۔اے اہلِ دانش! المجمع“ يا أهل الآراء، وخذوا مجمع البحار کو دیکھو اور کچھ حیا سے کام لو۔حظا من الحياء، هذا هو القول یہ ہے وہ قول جس کا تم انکار کر رہے ہو اور وہ چیز الذي تكفرون به و تقطعون ما أمر جس کے متعلق اللہ نے ملانے کا حکم دیا ہے الله به أن يوصل وباعدتم عن أسے قطع کرتے ہو۔اور تقویٰ کے مقام سے مقام الا تقاء ، أليس منكم رجل دور ہٹ گئے ہو۔اے فتنہ پردازو! کیا تم میں رشيد يا معشر المفتتنين ؟ وجاء ایک بھی عقل والا نہیں؟ طبرانی اور مستدرک میں في الطبراني والمستدرك عن ( حضرت ) عائشہؓ سے روایت ہے وہ بیان کرتی عائشة قالت قال رسول الله صلعم ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ إن عيسى بن مریم عاش عشرین عیسی ابن مریم ایک سو بیس سال زندہ رہے۔پھر ومائة سنة۔ثم بعد هذه الشهادات، ان شہادتوں کے علاوہ ابن القيم المحدّث انظروا إلى ابن القيم المحدث کی جانب نظر دوڑاؤ جن کی باریک بینی کا ایک المشهود له بالتدقيقات، فإنه عالم گواہ ہے۔اُنہوں نے اپنی کتاب مدارج قال في مدارج السالكين إنّ السّالکین میں فرمایا ہے کہ اگر موسی اور عیسی موسى وعيسى لو كانا حيين ما زندہ ہوتے تو انہیں حضرت خاتم النبیین صلی وسعهم إلا اقتداء خاتم النبيين اللہ علیہ وسلم کی اتباع کے سوا کوئی چارہ نہ ہوتا۔