اتمام الحجّة — Page 10
اتمام الحجة اردو تر جمه ومن تبعه فقد نجا من طرق اور جس نے اس کی اتباع کی تو وہ یقیناً گھاٹے کی الخسران۔ففكروا الآن، إن راہوں سے نجات پا گیا۔لہذا اب غور کرو کہ القرآن يتوفَّى المسيح ويكمل قرآن کریم میسیج کو مارتا ہے اور اس کے بارہ فيه البيان، وما خالفه حدیث میں اپنے بیان کو مکمل کرتا ہے اور کوئی حدیث بھی في هذا المعنى بل فسّره وزاد اس معنی میں قرآن کی مخالف نہیں بلکہ وہ اس کی العرفان، وتقرأ فى البخاری تفسیر کرتی اور عرفان بڑھاتی ہے۔تم بُخاری ، والــعـيـنـي وفـضـل الباري أن عيني اور فضل الباری میں پڑھتے ہو کہ توفّی التوفّى هو الإماتة، كما کے معنی مارنے کے ہیں۔جیسا کہ (حضرت) صلى الله شهد ابن عباس بتوضيح ابنِ عباس اور ہمارے آقا محمد ﷺ) نے جو تمام البيان، وسيدنا الذي إمام انس و جن کے امام اور نبی ہیں۔واضح بیان کے الإنس ونبي الجان، فأى أمرٍ ساتھ اس کی شہادت دی ہے۔تو پھر اے بھائیو بقی بعدہ یا معشر الإخوان اور مسلمانوں کے گروہو ! اس کے بعد اور کون سی وطوائف المسلمين؟ بات باقی رہ جاتی ہے؟ وقد أقر المسيح في القرآن أن قرآن میں مسیح کا یہ اقرار موجود ہے کہ اُن کی فساد أمته ما كان إلا بعد موته موت کے بعد ہی ان کی اُمت میں بگاڑ ظاہر ہوا۔فإن كان عيسى لم يمت إلى الآن، پھر اگر عیسی (علیہ السلام) اب تک فوت نہیں فلزمك أن تقول إن النصارى ما ہوئے تو تمہیں لا ز ما یہ ماننا پڑے گا کہ نصاریٰ نے أفسدوا مذهبهم إلى هذا الزمان اب تک اپنے مذہب کو نہیں بگاڑا اور جن لوگوں والذين نحتوا معنى آخر للتوفّى نے توفی کے کوئی اور معنی گھڑ لئے ہیں تو ایسے فهو بعيد عن التشفّى، وإن هو معنى نا قابل اطمینان ہیں اور یہ صرف اور صرف إلا من أهوائهم وفساد آرائهم، ان کی خواہشات اور اُن کے خیالات کا فتور ہے۔