اتمام الحجّة — Page 6
اتمام الحجة اردو تر جمه وأكده الله بقوله فَلَمَّا اللہ تعالیٰ نے اپنے قول فَلَمَّا تَوَفَّيْتَنِى تَوَفَّيْتَني، ففَكِّرُ فيه يا من سے (وفات مسیح کے عقیدہ) کو پکا کر دیا ہے۔اس آذیتنی، و حسبتنى من لئے اے وہ شخص جس نے مجھے اذیت دی اور مجھے الكافرين۔وهذا نص لا يردّه کافروں میں سے گردانا تو اس بارے میں غور قولُ مُبار بآثار ، ولا يجرحه کر۔اور یہ وہ نص صریح ہے جسے کسی مخالف کا سهم مُمارِ في مضمار ، ولا قول احادیث سے رڈ نہیں کر سکتا اور نہ ہی میدان ینكره إلا من كان من میں کسی مخالف کا تیر اسے مجروح کرسکتا الظالمين۔والذين غاض دَر سوائے ظالم کے اس کا کوئی انکار نہیں کر سکتا۔وہ ہے۔أفكارهم وضعفت جوازل لوگ جن کے فکر کے سوتے خشک ہو چکے ہوں اور أنظارهم، لا ينظرون إلى كتاب اُن کی نگاہیں کمزور اور کوتاہ ہوں وہ کتاب اللہ اور الله وبيناته، ويتيهون كرجل اُس کے واضح دلائل پر نگاہ نہیں ڈالتے اور وہ اُس شخص اتبع جهلاته، ويتكلمون کی طرح سرگرداں ہیں جو اپنی جاہلانہ باتوں کا تابع كمجانين۔يقولون إن لفظ ہو اور پاگلوں جیسی گفتگو کرتے ہیں۔وہ کہتے ہیں التوفي ما وضع لمعنى خاص ك لفظ توفی خاص معنی کے لئے وضع نہیں کیا بل عمت معانيه، وما أُحكمت گیا بلکہ اس کے معانی عام ہیں اور اس کی بنیادیں مبانيه، وكذلك يكيدون مضبوط نہیں اور وہ اس طرح مفتریوں کی طرح فریب كالمفترين۔وإذا قيل لهم إن کرتے ہیں۔اور جب ان سے یہ کہا جائے کہ هذا اللفظ ما جاء في القرآن رحمن خدا کی کتاب قرآن میں یہ لفظ جہاں بھی وارد كتاب الله الرحمن إلا للإماتة ہوا ہے وہاں اس کے معنی صرف اور صرف مارنے وقبض الأرواح المرجوعة، لا اور دمِ واپسیں روح کے قبض کرنے کے ہوتے لقبض الأجسام العنصرية، ہیں نہ کہ اجسام عنصری کے قبض کرنے کے۔