اسلامی لٹریچر میں خوفناک تحریف

by Other Authors

Page 32 of 81

اسلامی لٹریچر میں خوفناک تحریف — Page 32

32 =2 شرح و بسط سے بتایا ہے۔حضرت نعمت اللہ ولی نہایت مظلوم شخصیت ہیں کیونکہ ایک تو آپ کے اصل قصیدہ کا حلیہ ہی بگاڑ دیا گیا دوسرے آپ کے نام پر کئی جعلی قصیدے اور بیسوں اشعار وضع کر کے شائع کیے جاچکے قصیدہ سازی کی یہ ناپاک مہم مجد دسیز دہم حضرت سید احمد بریلوی کے سانحہ شہادت (مئی 1831ء) کے بعد شروع ہوئی اور اب تک جاری ہے۔اس سلسلہ میں پہلا جعلی قصیدہ جس میں یہ خبر دی گئی تھی کہ سلطان مغرب 1854 ء تک ظاہر ہوگا۔کلکتہ ریویو ( 1870ء) میں شائع ہوا۔اس قصیدہ کی شکل حوادث زمانہ کی نئی صورتوں کے ساتھ ساتھ بدلتی رہی۔چنانچہ پہلی جنگ عظیم کے بعد جب اتحادیوں نے ظالمانہ طور پر ترکی کے حصے کر دیئے مسلمانان ہند کو ڈھارس بندھانے اور دینی و قلبی تسکین کے لیے پھر یہی حربہ بروئے کار لایا گیا۔تعلیمات جدید پر ایک نظر طبع اول مطبوعہ مارچ 1931 ء آفتاب برقی پریس امرتسر ) ملک تقسیم ہوا تو 1948 ء میں دوسرے جعلی قصیدہ کو بدلے ہوئے حالات میں ڈھال کر مزید اضافہ کے ساتھ ہندوستان اور پاکستان دونوں ممالک میں شائع کیا گیا۔اس قصیدہ میں میر عثمان علی والی دکن کی طرف اشارہ کر کے بتایا گیا تھا کہ ماہ محرم کے بعد تلوار مسلمانوں کے ہاتھ میں آجائے گی اور عثمان غازیانہ عزم کے ساتھ میدان جہاد میں اترے گا اور مسلمان دوبارہ ہندوستان پر قابض ہو جائیں گے لیکن 18 ستمبر 1948ء کو ریاست حیدرآباد نے ہتھیار ڈال دیئے اور اس قصیدہ کے جعلی ہونے پر خود بخود مہر تصدیق ثبت ہوگئی۔1971ء میں اس وضع اور خود ساختہ قصیدہ کو ایک بار پھر مزید اضافوں کے ساتھ چھپوایا گیا تا سقوط ڈھاکہ کے زخموں کو مندمل کیا جا سکے۔یہ کارنامہ“ دین دار انجمن