اسلامی لٹریچر میں خوفناک تحریف — Page 66
66 انا خاتم الانبياء و انت يا على خاتم الاولياء یعنی میں خاتم الانبیاء ہوں اور اے علی تم خاتم الاولیاء ہو۔یہ عبارت ۱۸۶۲ سے قبل کے ایرانی ایڈیشن میں موجود ہے مگر ۱۳۳۴ھ اور ۱۳۹۳ھ میں جو نئے ایڈیشن تہران سے شائع کئے گئے ہیں ان میں خاتم الاولیاء کی بجائے متن میں خاتم الاوصیاء لکھ دیا گیا ہے۔جو فرمان رسالت کی کھلی بے ادبی اور گستاخی ہے۔ترجمہ خاتم النبین حضرت شاہ رفیع الدین دہلوی حضرت شاہ رفیع الدین رحمۃ اللہ علیہ کی بلند شخصیت محتاج تعارف نہیں المتوفی ۳۴۵۱۲۴۹ ۱۸۳۳ء ) آپ حکیم الامت حضرت شاہ ولی اللہ دہلوی اکے دوسرے بیٹے اور یگانہ روزگار اور جلیل القدر عالم اور کئی کتابوں کے مصنف تھے آپ کا عظیم ترین کارنامہ قرآن عظیم کا تحت اللفظ ترجمہ ہے جس کو برصغیر پاک و ہند کے تمام تحت اللفظ ترجمہ میں اولیت زمانی کا فخر حاصل ہے۔افسوس ! یہ تاریخی ترجمہ بھی علماء کی تبدیلی کا نشانہ بننے سے محفوظ نہیں مثلاً اسوقت ہمارے سامنے شیخ غلام علی تاجر کتب کشمیری بازار لاہور کا شائع کردہ ایک ایڈیشن موجود ہے جس پر دس مارچ ۱۹۲۴ء کی تاریخ اشاعت درج ہے۔اس ایڈیشن کے صفحہ ۵۵۵ پر آیت خاتم النبین کا ترجمہ درج ذیل الفاظ میں لکھا ہے۔نہیں ہے محمد باپ کسی کا مردوں تمہارے میں سے ولیکن پیغمبر خدا کا ہے اور مہر تمام نبیوں پر اور ہے اللہ ہر چیز کو جاننے والا لی المتوفی ۱۷۶۲۵۱۱۷۶ء