اسلامی لٹریچر میں خوفناک تحریف — Page 63
63 تزک واحتشام کے ساتھ آنحضرت ﷺ کی خدمت اقدس میں حاضر ہوا۔آنحضور نے انہیں مسجد نبوی سے میں اتارا۔تھوڑی دیر بعد ان کی نماز کا وقت آیا تو پیغمبر امن ﷺ کی اجازت سے ان لوگوں نے مسجد نبوی میں ہی اپنی مخصوص عبادت کی جس کے بعد آنحضور ﷺ نے اس وفد کو جو گو یا عیسائی دنیا کا ایک نمائندہ وفد تھا اسلام کی طرف بلایا اور انہوں نے جواب میں کہا کہ ہم تو پہلے ہی مسلمان ہیں آنحضرت ﷺ نے فرمایا کہ تم مسیح کو خدا کا بیٹا مانتے ، صلیب پوجتے اور خنزیر کھاتے ہو۔یہی وجہ ہے کہ تمہیں اسلام لانے میں تامل ہے، کہنے لگے اگر یسوع مسیح خدا کا بیٹا نہیں تو اس کا باپ کون ہے؟ آنحضرت ﷺ نے فرمایا ” الستُم تَعْلَمُونَ أَنَّهُ لَا إِلَا يَكُونُ وَلَدٌ أَلَّا وَيُشبِهُ آبَاهُ " کیا تمہیں علم نہیں کہ ہر بیٹا اپنے باپ کے مشابہ ہوتا ہے انہوں نے عرض کیا۔یقیناً۔اس پر حضور ﷺ نے پورے جلال کیساتھ فرمایا: الَستُم تَعْلَمُونَ أَنَّ رَبَّنَا حَى لَّا يَمُوتُ وَإِنَّ عِيسَى أَتَى عَلَيْهِ الفَنَاءُ“ اسباب النزول صفحه ۵۳ از حضرت ابوالحسن علی بن احمد الواحدی النیسابوری متوفی ۴۶۸ طبع دوم مصری ۱۹۶۸ء) یعنی کیا تم نہیں جانتے کہ ہمارا رب زندہ ہے کبھی نہیں مرتا اگر حضرت عیسی وفات پاچکے ہیں۔یہ تقریر کراچی کی مخلص، ایثار پیشہ اور پر جوش داعی الی اللہ جماعت نے مارچ 1929ء میں