اسلامی لٹریچر میں خوفناک تحریف — Page 62
62 " راقم الحروف کو ۲۶ دسمبر ۱۹۷۸ ء کو جلسہ سالانہ ربوہ کے مقدس سیج پر وفات مسیح اور احیائے اسلام“ کے موضوع پر تقریر کی سعادت عطا ہوئی۔عاجز نے دوران تقریر اسباب النزول مصری کے حوالہ سے اُس تاریخی واقعہ نجران کا بھی ذکر کیا جو خاتم المومینین ، خاتم العارفین ، خاتم النبین حضرت محمد مصطفی احمد مجتبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے آستانہ عالیہ میں حاضر ہوا۔شہنشاہِ دو عالم نے عیسائی دنیا کی ان معزز و محترم شخصیات کو مسجد نبوی میں قیام وصلوٰۃ کا شرف بخشا اور دوران ملاقات الوہیت مسیح کے نظریہ پر بھی فیصلہ کن گفتگو فرمائی۔اور ڈنکے کی چوٹ پر اعلان فرمایا کہ حضرت مسیح وفات پاچکے ہیں۔چنانچہ خاکسار نے بتایا :- مکہ معظمہ سے یمن کی طرف سات منزل پر نجران کی عیسائی ریاست تھی جہاں ایک عظیم الشان گرجا تھا جس کو وہ کعبید نجران کہتے تھے اور حرم کعبہ کا جواب سمجھتے تھے۔یہ کعبہ تین سوکھالوں سے گنبد کی شکل میں بنایا گیا تھا ، عرب میں عیسائیوں کا کوئی مذہبی مرکز اس کا ہمسر نہ تھا ، اس ریاست کا انتظام تین شعبوں پر منقسم تھا، خارجی اور جنگی امور کے ناظم کو سید“ کہتے تھے۔دنیاوی اور داخلی امور عاقب “ کے سپر دہوتے اور دینی امور کا ذمہ دار أسقف ( لارڈ بشپ ) کہلاتا تھا۔ان مذہبی پیشواؤں کا تقرر خود قیصر روم کیا کرتا تھا۔( معجم البلدان جلد ۸ صفحه ۲۶۳) آنحضرت ﷺ نے ان کے دوسرے بادشاہوں کے ساتھ تبلیغی خط لکھا جس پر کہ ہجری میں نجران کا ایک پر شکوہ وفد مدینہ حاضر ہوا۔یہ وفد ساٹھ ارکان پر مشتمل تھا اور اس میں ریاست کے مینوں لیڈر بھی تھے۔جن کے نام یہ ہیں عبدالمسیح (عاقب) شرجیل یا اہم (سید) اور ابو حارثہ بن علقمہ ( اسقف ) یہ وفد شاہی