اسلامی لٹریچر میں خوفناک تحریف — Page 52
52 اس وجہ سے اس نے حضرت خواجہ صاحب کے سامنے حضرت مرزا صاحب کی مذمت کی۔حضرت خواجہ صاحب ابقاه الله تعالیٰ ببقائه نے اس کی تمام تقریر کو سنا اور اس کو کوئی جواب نہ دیا۔اس کے بعد جناب مولوی غلام احمد صاحب اختر نے عرض کی قبلہ ! جو کچھ حضرت مرزا صاحب علیہ السلام نے لکھا ہے وہ عیسائیوں کو کہتے ہیں کہ جو کچھ تمہاری انجیل اور تورات ( جو حرف ہیں ) میں لکھا ہوا ہے کہ یسوع اللہ تعالیٰ کا بیٹا ہے اور یہ کہ تم تثلیث اور کفارہ کا عقیدہ رکھتے ہو اور دیگر بُری باتیں اور تو ہین جو کہ یسوع اور دیگر انبیاء علیہ السلام کے متعلق انجیل اور تورات سے ظاہر ہوتی ہیں یہ سب باتیں سراسر بہتان ہیں اور ایسے ہی یسوع بھی ایک فرضی شخصیت ہے اور وہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کہ جن کی نبوت اور اوصاف اور معجزات کے متعلق قرآن شریف خبر دیتا ہے وہ اللہ تعالیٰ کا بندہ ہے اور وہ اللہ تعالیٰ کا نبی ہے۔اور وہ ہماری آنکھوں کا نور ہے۔پس بہتر ہے کہ اس یسوع کا مذہب جسے تم نے اپنے دل میں بٹھایا ہوا ہے اس کو چھوڑ دو اور ترک کر دو۔اور حضرت محمد مصطفی میے کے حق میں گالی گلوچ اور فحش باتیں نہ کہو اور آنحضرت صلعم کے پیش فرمودہ دین اسلام کو قبول کر لو ورنہ میں تمہارے اس فرضی یسوع کی اس سے زیادہ خبر لوں گا۔(تمہاری کتابوں سے ) حضرت خواجہ ابقاه الله تعالى ببقائه نے فرمایا: ہاں ٹھیک حقیقت اسی طرح ہے۔بعد ازاں مولوی غلام دستگیر مذکور نے عرض کیا کہ وہ خط جو حضور نے مرزا صاحب قادیانی کو لکھا ہے۔مرزا صاحب نے حضور کے اس خط کو اپنی کتاب ہے۔انجام آتھم کے ضمیمہ میں درج کر کے شائع کر دیا ہے اور اخبارات میں چھپوا کر دنیا