اسلامی لٹریچر میں خوفناک تحریف — Page 39
39 والے نبی سے بارہ میں لکھی جاتی ہیں وہ تمام باتیں اپنے ظاہری الفاظ کے ساتھ ہرگز پوری نہیں ہوتیں بعض جگہ استعارات ہوتے ہیں بعض جگہ خود اپنی سمجھ میں فرق پڑ جاتا ہے اور بعض جگہ پرانی باتوں میں کچھ تحریف ہو جاتی ہے۔اس لیے تقویٰ کا طریق یہ ہے جو باتیں پوری ہو جا ئیں ان سے فائدہ اٹھا ئیں اور وقت اور ضرورت کو مدنظر رکھیں غرض خواجہ غلام فرید صاحب کو خدا تعالیٰ نے یہ نور باطن عطا کیا تھا کہ وہ ایک ہی نظر میں صادق اور کاذب میں فرق کر لیتے تھے خدا ان کو غریق رحمت کرے اور اپنے قرب میں جگہ دے۔“ (حقیقۃ الوحی) حضرت مسیح موعود کے نام خطوط حضرت مسیح موعود کے نام حضرت خواجہ غلام فرید نے نہایت درجہ عقیدت سے لبریز تین خطوط ارسال کیے تھے جو حضور نے ضمیمہ انجام آتھم صفحہ ۳۹ اور ضمیمہ رسالہ سراج منیر صفحہ الف، ب ، ج ، ن پر شائع فرمائے اور آپ کو فرید وقت“ کے خطاب سے نوازا۔حضرت خواجہ صاحب کا پہلا خط عربی میں (مورخہ ۲۷ رجب ۱۳۱۴ھ ) دوسرا فارسی میں (۲۷ شعبان ۱۳۱۴ھ ) اور تیسرا بھی فارسی میں تھا۔( تاریخ ہم شوال ۱۳۱۴ھ ہر خط پر آپ کی مہر ثبت تھی ) پہلے خط میں آپ نے تحریر فرمایا: ”اے ہر ایک حبیب سے عزیز تر آپ کو معلوم ہو کہ میرا مقام ابتداء ہی سے آپ کی تعظیم کرتا ہے تا کہ مجھے ثواب حاصل ہو اور کبھی میری زبان پر یہ تعظیم و تکریم اور رعایت آداب کے آپ کے حق میں کوئی کلمہ جاری نہیں ہوا۔اور اب میں آپ کو