اسلامی لٹریچر میں خوفناک تحریف — Page 38
38 ایمان لاتے ہیں پس چونکہ خواجہ غلام فرید صاحب پیر صاحب العلم کی طرح پاک باطن تھے اس لیے خدا نے ان پر میری سچائی کی حقیقت کھول دی اور کئی مولوی جیسے مولوی غلام دستگیر خواجہ صاحب کو میرا مکذب بنانے کیلیے آپ کے گاؤں میں پہنچے جیسا کہ کتاب اشارات فریدی میں خواجہ صاحب نے خود یہ حالات بیان کیے ہیں کہ بعض غزنویوں کا بھی خواجہ صاحب موصوف کے پاس خط پہنچا مگر آپ نے کسی کی بھی پر واہ نہیں کی اور ان خشک ملاؤں کو ایسے دندان شکن جواب دیئے کہ وہ ساکت ہو گئے اور خدا تعالیٰ کے فضل سے آپ کا خاتمہ مصدق ہونے کی حالت میں ہوا۔چنانچہ وہ خطوط جو آپ نے میری طرف لکھے ان سے بھی ظاہر ہوتا ہے کہ خدا تعالیٰ نے کس قدر محبت ان کے دل میں ڈال دی تھی اور کس قدرا اپنے فضل سے میرے بارہ میں ان کو معرفت بخش دی تھی خواجہ صاحب نے اپنی کتاب اشارات فریدی میں مخالفوں کے حملوں کا جا بجا جواب دیا ہے جیسا کہ ایک جگہ اشارات فریدی میں لکھا ہے کہ کسی نے خواجہ صاحب موصوف کی خدمت میں عرض کی کہ آتھم معیاد کے بعد مرا۔انہوں نے میرا نام لے کر فرمایا اس بات کی کیا پر واہ ہے۔میں جانتا ہوں کہ آٹھم انہیں کے نفس سے مرا ہے یعنی انہی کی توجہ اور عقد ہمت نے آتھم کا خاتمہ کر دیا۔اور کسی نے میری نسبت آپ کو کہا کہ ہم ان کو مہدی موعود کیونکر مان لیں کیونکہ مہدی موعود کی ساری علامتیں جو حدیثوں میں لکھی ہیں ان میں پائی نہیں جاتیں تب خواجہ صاحب اس کلمہ پر ناراض ہوئے اور فرمایا کہ یہ تو کہو کہ تمام قرار داده نشان جولوگوں نے پہلے سے سمجھ رکھے تھے کس نبی یا رسول میں سب کے سب پائے گئے۔اگر ایسا وقوع میں آتا تو کیوں بعض کافر رہتے اور بعض ایمان لاتے یہی سنت اللہ ہے جو علامتیں پیشگوئیوں میں کسی آنے