اسلامی لٹریچر میں خوفناک تحریف

by Other Authors

Page 30 of 81

اسلامی لٹریچر میں خوفناک تحریف — Page 30

30 چسپاں نہیں ہوتیں۔اس وقت تو مولانا محمد جعفر صاحب تھانیسری کے ہمنوا علماء نے الاربعین کے قصیدہ کو خاموشی سے تسلیم کر لیا لیکن کچھ عرصہ بعد انہوں نے رسالہ الا اربعین کو مولانا ولایت علی عظیم آبادی (متوفی 1269ھ ) کے دوسرے رسالوں میں شامل کر کے اس مجموعے کا نام "رسائل قطعہ رکھ کر شائع کر دیا اور رسالہ الاربعین کے آخر میں سے حضرت نعمت اللہ ولی کا مکمل قصیدہ جو پچپن اشعار پر مشتمل اور الہامی تھا بالکل خارج کر ڈالا۔1920ء میں پروفیسر براؤن کی کتاب " تاریخ ادیبات ایران A Litrary History of Persia شائع ہوئی جس میں مسٹر براؤن نے ایران کے شیعہ بزرگ حضرت شاہ نعمت اللہ ولی کرمانی کے مزار کے کسی مجاور سے حاصل شدہ ایک قصیدہ بھی درج کیا۔یہ قصیدہ دراصل حضرت نعمت اللہ ولی کے اصل قصیدہ کی بگڑی ہوئی شکل تھی جسے باہیوں نے سید علی محمد بابا پر چسپاں کرنے کے لیے مسخ کر دیا تھا حتی کہ اس کے نام کی نسبت سے اس میں ”احمد“ کی بجائے ”محمد“ لکھ دیا اور چونکہ ایران کے شیعہ مسلمانوں کو دہلی کے کسی ولی سے کوئی خاص مذہبی عقیدت نہیں ہوسکتی تھی اس لیے انہوں نے نہایت ہوشیاری سے دہلی کے حضرت نعمت اللہ ولی کا قصیدہ ان کے ہم نام ایرانی بزرگ حضرت شاہ نعمت اللہ کرمائی تک منسوب کر دیا۔اور مولانا مسعود عالم ندوی نے اپنی کتاب ”ہندوستان کی پہلی اسلامی تحریک کے صفحہ 212 پر رسائل تسہ“ کے ذکر میں یہ بتایا ہے کہ یہ مجموعہ مولوی الہی بخش بڑا کری عظیم آبادی (المتوفی 1334ھ ) کے اردو ترجمہ کے ساتھ چھپا تھا۔۲ ۵۰ - ۱۸۴۹ء کے درمیان آذربائیجان میں قتل ہوئے۔