اسلامی لٹریچر میں خوفناک تحریف

by Other Authors

Page 29 of 81

اسلامی لٹریچر میں خوفناک تحریف — Page 29

29 حضرت بانی جماعت احمدیہ مسیح موعود و مهدی موعود و مهدی مسعود عطا رحمۃ اللہ علیہ نے جون 1892ء میں نشان آسمانی کے نام سے ایک معرکۃ الآراء کتاب تصنیف فرمائی جس میں آپ نے الاربعین کے حوالے سے اس قصیدہ کا تفصیلی ذکر کیا اور اسے اپنی صداقت کے نشان کے طور پر پیش فرمایا نیز اس کے بعد ابیات کا ترجمہ اور تشریح کر کے ثابت کیا کہ آپ ہی اس الہی بشارت پر مشتمل قصیدہ کے موعود اور مہدی موعود سے متعلق پیشگوئی کے مصداق ہیں۔کیونکہ جیسا کہ اس قصیدہ میں خبر دی گئی تھی ٹھیک چودہویں صدی کے سر پر آپ کا ظہور ہوا۔آپ ہی کو یہ بشارت دی گئی کہ ایک موعود لڑ کا آپ کی یاد گار رہ جائے گا آپ کا نام ”احمد“ ہے آپ مہدی وقت بھی ہیں اور عیسی دوران بھی۔مخالفین احمدیت نے اس الہامی قصیدے سے جو سلوک کیا وہ المیہ سے کم نہیں تفصیل اس اجمال کی یہ ہے کہ مولوی محمد جعفر صاحب تھا میسری مؤلف تواریخ عجیب سوانح احمدی نے 23 جولائی 1892ء کو نشان اے آسمانی کے رد میں تائید آسمانی لکھی جس میں انہوں نے اگر چہ مندرجہ بالا قصیدہ صحیح اور مکمل صورت میں شائع کر دیا۔نیز بتایا کہ اربعین کا وہ نسخہ جس کے آخر میں یہ اشعار چھپے ہوئے ہیں خود میں نے مرزا صاحب کو بھجوایا تھا۔(صفحہ 5-4) مگر انہوں نے مختلف اشعار کی روشنی میں یہ ثابت کرنے کی ناکام کوشش کی کہ مرزا صاحب پر یہ نشانیاں ا یہ رسالہ اختر ہند پریس حال بازار امرتسر میں چھپا مؤلف کے علاوہ امرتسر میں شیخ محمد عبد العزیز صاحب کڑ کنہیا سے بھی مل سکتا تھا۔تھا ینسری صاحب ان دنوں صدر بازار کیمپ انبالہ میں مقیم تھے۔اس رسالہ کا ایک نسخہ خلافت لائبریری ربوہ میں محفوظ ہے